کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نیند سے بیدار ہونے والے شخص کا ، اپنا ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ڈالنے کی ممانعت ہے
حدیث نمبر: 99
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثًا ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ تین مرتبہ دھوئے بغیر برتن میں نہ ڈالے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ “ ( کس حصّے کو لگتا رہا ہے ) یہ عبدالجبار کی حدیث ہے ۔ اُنہوں نے اپنی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام صراحت سے لینے کی بجائے « رواية » کے لفظ استعمال کیئے ہیں۔ ( اس کا مطلب ہے کہ یہ روایت مرفوعاً بیان کی گئی ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة / حدیث: 99
تخریج حدیث «صحيح البخارى: كتاب الوضوء: باب الاستححمار وترا: 157 ، صحيح مسلم: كتاب الطهارة: باب كراهة غمس المتوضيء وغيره بده المشكوك فى نجاستها .... 278 ، سنن ترمذي: 24 ، سنن نسائي: 1 ، والبيهقي فى الكبرىٰ: رقم: 203 ، من طريق أبى سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة ، و أحمد: 395/2 ، 507 ، وابن أبى شيبة: 98/1 ، وفى 203/14 ، من طريق سيرين عن ابي هريرة به»