کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: جس پانی میں کُتّا منہ ڈال دے اسے بہانے اور برتن کو دھونے کا حکم ہے
حدیث نمبر: Q98
وَغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ «وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى نَقْضِ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمَاءَ طَاهِرٌ، وَالْأَمْرُ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ تَعَبُّدٌ، إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَأْمُرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَرَاقَةِ مَاءٍ طَاهِرٍ غَيْرِ نَجِسٍ»
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس میں ان علماء کے موقف کے خلاف دلیل ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پانی پاک ہے اور برتن کو دھونا تعبدی امر ہے، کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاک، غیر نجس پانی کو بہانے ( اور ضائع ) کرنے کا حکم دیں۔
حدیث نمبر: 98
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، وَأَبِي صالح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيُهْرِقْهُ وَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " . " وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلا يَمْشِ فِيهِ حَتَّى يُصْلِحَهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب تم میں سے کسی شخص کے برتن میں کُتّا منہ ڈال کر پی لے تو اُسے چاہیے کہ اُس ( مشروب ) کو بہا دے ، اور اُسے اُس برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہیئے ، اور جب تم میں سے کسی ( کے جوتے ) کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اس ( جوتے ) میں نہ چلے حتیٰ کہ اسے مرمّت کروا لے ۔ “