کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: کھڑے پانی میں جنبی کے نہانے کی ممانعت کا بیان ، عام الفاظ کے ساتھ جب کہ اس سے مراد خاص ہے ۔
حدیث نمبر: Q93
وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ‏"‏ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ‏"‏- لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ عَلَى مَا بَيَّنْتُ قَبْلُ- أَرَادَ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ قُلَّتَيْنِ فَصَاعِدًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس میں دلیل بھی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“ کے الفاظ عام ہیں جب کہ ان سے مراد خاص ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ آپ کی مراد وہ پانی ہے جو دو مٹکے یا اس سے زیادہ ہو
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة / حدیث: Q93
حدیث نمبر: 93
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ " ، قَالَ : كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ” تم میں سےکوئی شخص کھڑے پانی میں غسل نہ کرے جبکہ وہ جنبی ہو۔ “ اس نے عرض کی کہ اے ابوہریرہ ، پھر وہ کیسے ( غسل ) کرے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ ( اُس میں سے ) پانی لے لے ( اور با ہر بیٹھ کر غسل کرے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة / حدیث: 93
تخریج حدیث «صحيح مسلم: كتاب الطهارة: باب النهي عن الاغتسال فى الماء الراكد: 283 ، سنن نسائي: 220 ، سنن ابن ماجه: 605 ، و ابن حبان: رقم: 1252 ، والبيهقي فى الكبرىٰ: رقم: 1063»