کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه (70) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْيِ تَنْجِيسِ الْمَاءِ بِلَفْظٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ، بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ باب: اس حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے ناپاک ہونے کی نفی کے بارے میں مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ مروی ہے ، اس کے الفاظ عام ہین اور اس سے مراد خاص ہے حدیث 91–91 (71) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا باب: گذشتہ مجمل روایت کی مفسرروایت کا بیان حدیث 92–92 (72) بَابُ النَّهْيِ عَنِ اغْتِسَالِ الْجُنُبِ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ باب: کھڑے پانی میں جنبی کے نہانے کی ممانعت کا بیان ، عام الفاظ کے ساتھ جب کہ اس سے مراد خاص ہے ۔ حدیث 93–93 (73) بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي قَدْ بِيلَ فِيهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ مِنْهُ بِذِكْرِ لَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ باب: اس کھڑے پانی سے وضو کرنے اور پینے کی ممانعت کا بیان جس میں پیشاب کیا گیا ہو ، اس کا بیان عام الفاظ کے ساتھ ہے جبکہ مراد خاص ہے حدیث 94–94 (74) بَابُ الْأَمْرِ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ باب: کتّا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے دھونے کا حکم ہے حدیث 95–97 (75) بَابُ الْأَمْرِ بِإِهْرَاقِ الْمَاءِ الَّذِي وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ، باب: جس پانی میں کُتّا منہ ڈال دے اسے بہانے اور برتن کو دھونے کا حکم ہے حدیث 98–98 (76) بَابُ النَّهْيِ عَنْ غَمْسِ الْمُسْتَيْقِظِ مِنَ النَّوْمِ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ غَسْلِهَا باب: نیند سے بیدار ہونے والے شخص کا ، اپنا ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ڈالنے کی ممانعت ہے حدیث 99–99 (77) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ مِنْهُ " أَيْ أَنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ أَتَتْ يَدُهُ مِنْ جَسَدِهِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ” وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے “ سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اسے علم نہیں ہے کہ اس کا ہاتھ اس کے جسم پر کہاں لگا ہے حدیث 100–100 (78) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ إِذَا خَالَطَهُ فَرْثُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ لَمْ يَنْجُسْ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے اس کی گوبر اگر پانی میں مل جائے تو وہ پانی ناپاک نہیں حدیث 101–101 (79) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ باب: بلّی کے جوٹھے سے وضو کرنے کی رخصت ہے حدیث 102–104 (80) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ سُقُوطَ الذُّبَابِ فِي الْمَاءِ لَا يُنَجِّسُهُ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ مکّھی کا پانی میں گرنا اسے ناپاک نہیں کرتا حدیث 105–105 (81) بَابُ إِبَاحَةِ الْوُضُوءِ بِالْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ باب: استعمال شدہ پانی سے وضو کرنا جائز ہے حدیث 106–106 (82) بَابُ إِبَاحَةِ الْوُضُوءِ مِنْ فَضْلِ وُضُوءِ الْمُتَوَضِّئِ باب: وضو کرنے والے کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے حدیث 107–107 (83) بَابُ إِبَاحَةِ الْوُضُوءِ مِنْ فَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے ۔ حدیث 108–108 (84) بَابُ إِبَاحَةِ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ غُسْلِ الْمَرْأَةِ مِنَ الْجَنَابَةِ باب: عورت کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے حدیث 109–109 (85) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ سُؤْرَ الْحَائِضِ لَيْسَ بِنَجَسٍ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ حائضہ عورت کا جوٹھا ناپاک نہیں ہے حدیث 110–110 (86) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، إِذْ مَاؤُهُ طَهُورٌ مَيْتَتُهُ حِلٌّ، باب: سمندر کے پانی سے غسل اور وضو کرنے کی رخصت ہے کیونکہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے حدیث 111–112 (87) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ فِي أَوَانِي أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَسْقِيَتِهِمْ " باب: مشرکوں کے برتنوں اور مشکیزوں میں موجود پانی سے وضو اور غسل کرنے کی رخصت ہے ، حدیث 113–113 (88) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْمَاءِ يَكُونُ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ باب: مردار کے دباغت شدہ چمڑے میں موجود پانی سے وضوکرنا جائز ہے حدیث 114–114 (89) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ أَبْوَالَ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ لَيْسَ بِنَجَسٍ، وَلَا يَنْجُسُ الْمَاءُ إِذَا خَالَطَهُ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک نہیں ہے اور اگر وہ پانی میں مل جائے تو پانی پلید نہیں ہوتا حدیث 115–115 (90) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَازَةِ الْوُضُوءِ بِالْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ " باب: ایک مد پانی سے وضو کرنے کی اجازت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کا بیان حدیث 116–116 (91) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ تَوْقِيتَ الْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ " أَنَّ الْوُضُوءَ بِالْمُدِّ يُجْزِئُ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وضو کرنے کے لیے ایک مد پانی کی مقدار مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مد پانی سے کیا گیا وضو درست ہے حدیث 117–117 (92) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ بِأَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ باب: ایک مد سے کم پانی سے وضو کرنے کی رخصت ہے حدیث 118–118 (93) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنْ لَا تَوْقِيتَ فِي قَدْرِ الْمَاءِ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِهِ الْمَرْءُ، فَيَضِيقُ عَلَى الْمُتَوَضِّئِ أَنْ يَزِيدَ عَلَيْهِ أَوْ يَنْقُصَ مِنْهُ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وضو کرنے کے لیے پانی کی اسی مقدار مقرر نہیں ہے کہ جس سے کمی و بیشی کرتے ہوئے وضو کرنے والا تنگی اور حرج محسوس کرے حدیث 119–121 (94) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقَصْدِ فِي صَبِّ الْمَاءِ، وَكَرَاهَةِ التَّعَدِّي فِيهِ، وَالْأَمْرِ بِاتِّقَاءِ وَسْوَسَةِ الْمَاءِ باب: وضو کرتے وقت پانی کے استعمال میں میانہ روی مستحب ہے اور اسراف کرنا مکروہ ہے ۔ نیز پانی کے وسوسے سے بچنا چاہئے حدیث 122–122 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯