کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: جب کوئی دوسرے کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کو دفع کرے اور دفع کرنے میں حملہ کرنے والے کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کچھ تاوان نہ ہو گا (یعنی حفاظت خود اختیاری جرم نہیں ہے)۔
حدیث نمبر: 1673
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " قَاتَلَ يَعْلَى بْنُ مُنْيَةَ ، أَوِ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ فَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ ، وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ثَنِيَّتَيْهِ ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيَعَضُّ أَحَدُكُمْ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ " ،
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے زُرارہ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: یعلیٰ بن مُنیہ یا ابن امیہ ایک آدمی سے لڑ پڑے تو ان میں سے ایک نے دوسرے (کے ہاتھ) میں دانت گاڑ دیے، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور اس کا سامنے والا ایک دانت نکال دیا۔۔ ابن مثنیٰ نے کہا: سامنے والے دو دانت۔۔ پھر وہ دونوں جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی (دوسرے کو) اس طرح (دانت) کاٹتا ہے جیسے سانڈ کاٹتا ہے؟ اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1673
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 1673
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ ، فَجَذَبَهُ ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبْطَلَهُ وَقَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَأْكُلَ لَحْمَهُ " .
ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے دوسرے کی کلائی کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اسے کھینچا تو اس (کاٹنے والے) کا سامنے والا دانت گر گیا، یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس (نقصان) کو رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: ”کیا تم اس کا گوشت کھانا چاہتے تھے؟“
حدیث نمبر: 1674
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى " أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ رَجُلٌ ذِرَاعَهُ ، فَجَذَبَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
حضرت صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ یعلیٰ بن منیہ کے اجیر کا ایک آدمی نے ہاتھ (کلائی) چبایا، تو اس نے اسے کھینچ لیا، جس سے کاٹنے والے کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رائیگاں قرار دیا، اور فرمایا: ”تو نے چاہا اس کو چباتا رہے، جس طرح اونٹ چباتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1673
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ ثَنَايَاهُ ، فَاسْتَعْدَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَأْمُرُنِي تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ، ادْفَعْ يَدَكَ حَتَّى يَعَضَّهَا ثُمَّ انْتَزِعْهَا " .
محمد بن سیرین نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے والا ایک یا دو دانت گر گئے، اس پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے کیا کہتے ہو؟ تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اسے یہ کہوں: وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیا اور تم اس طرح اسے چباؤ جس طرح سانڈ چباتا ہے؟ تم بھی اپنا ہاتھ (اس کے منہ کی طرف) بڑھاؤ حتی کہ وہ اسے کاٹنے لگے، پھر تم اسے کھینچ لینا۔“
حدیث نمبر: 1674
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ يَعْنِي الَّذِي عَضَّهُ ، قَالَ فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهُ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
ہمام نے کہا: ہمیں عطاء نے صفوان بن یعلیٰ بن منیہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ پر دانتوں سے کاٹا تھا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس، یعنی جس نے کاٹا تھا، کے سامنے والے دو دانت نکل گئے، کہا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: ”تم یہ چاہتے تھے کہ اسے اس طرح چباؤ جس طرح سانڈ چباتا ہے؟“
حدیث نمبر: 1674
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ ، قَالَ : وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ : تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي ، فَقَالَ عَطَاءٌ : قَالَ صَفْوَانُ : قَالَ يَعْلَى : كَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ ، قَالَ : لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ ، فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ " ،
حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں جنگ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا، اور یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے، یہ غزوہ میرے نزدیک سب عملوں میں زیادہ وثوق و اعتماد کے لائق ہے، عطاء کہتے ہیں، صفوان نے کہا، یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا، میرا ایک اجیر (نوکر) تھا، اس نے دوسرے انسان سے لڑائی کی، تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، (عطاء کہتے ہیں، صفوان نے مجھے بتایا تھا، ان میں سے کس نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا تھا) جس کا ہاتھ چبایا جا رہا تھا، اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، اور اس کے سامنے کے دانتوں میں سے ایک دانت نکل گیا، تو وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپﷺ نے اس کے ثنیہ کا کوئی تاوان نہ ڈالا۔
حدیث نمبر: 1674
وحَدَّثَنَاه عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔