کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: پتھر وغیرہ بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص لازم ہو گا اسی طرح مرد کو عورت کے بدلے قتل کریں گے۔
حدیث نمبر: 1672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، قَالَ : فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ لَهَا : أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : الثَّانِيَةَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " ،
حضرت انس ‬ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے چاندی کے زیورات کی خاطر ایک لڑکی کو مار ڈالا، اسے پتھر سے مارا، اس لڑکی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، کیونکہ ابھی اس میں زندگی کے آثار تھے، جان نہیں نکلی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تجھے فلاں نے قتل کیا ہے؟‘‘ اس نے سر کے اشارے سے بتایا، نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ (کسی اور کے بارے میں) پوچھا، تو اس نے سر سے اشارہ کیا، کہ نہیں، پھر آپﷺ نے تیسری بار سوال کیا، تو اس نے سر کے اشارے سے کہا، ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو پتھروں کے درمیان (سر رکھ کر) قتل کروا دیا (کیونکہ اس نے قتل کا اعتراف کر لیا تھا)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1672
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1672
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ ، فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ .
خالد بن حارث اور ابن ادریس دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور ابن ادریس کی حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلوا ڈالا۔ (اس طرح بھاری پتھر مارا گیا کہ اس کا سر کچلا گیا۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1672
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1672
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ، ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي الْقَلِيبِ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ ، فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ " ،
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے ایوب سے خبر دی، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود کے ایک آدمی نے انصار کی ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر قتل کر دیا، پھر اسے کنویں میں پھینک دیا، اس نے اس کا سر پتھر سے کچل دیا تھا، اسے پکڑ لیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اسے مر جانے تک پتھر مارنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے پتھر مارے گئے حتی کہ وہ مر گیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1672
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1672
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1672
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1672
وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَسَأَلُوهَا مَنْ صَنَعَ هَذَا بِكِ ؟ فُلَانٌ فُلَانٌ حَتَّى ذَكَرُوا يَهُودِيًّا فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا ، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ ، فَأَقَرَّ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " .
قتادہ نے ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا ملا تو لوگوں نے اس سے پوچھا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ فلاں نے؟ فلاں نے؟ حتی کہ انہوں نے خاص (اسی) یہودی کا ذکر کیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ یہودی کو پکڑا گیا تو اس نے اعتراف کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1672
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»