حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ أَيْضًا ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ . ح وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَمَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ . سَمِعْتُ يُونُسَ ، يَقُولُ : سُئِلَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْنَى قَوْلِهِ : وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ، قَالَ : فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَرْضَى بِمَا قَالَ مَالِكٌ ؟ قَالَ : وَمَا قَالَ مَالِكٌ ؟ قِيلَ : قَالَ مَالِكٌ : الاسْتِجْمَارُ ، الاسْتِطَابَةُ بِالأَحْجَارِ ، فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَالِكٍ كَمَا قَالَ الأَوَّلُ : وَابْنُ اللَّبُونِ إِذَا مَا لُزَّ فِي قَرْنٍ لَمْ يَسْتَطِعْ صَوْلَةً الْبُزْلِ الْقَنَاعِيسِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص وضو کرے، وہ ناک جھاڑے اور جو ڈھیلوں سےاستنجا کرے وہ طاق ڈھیلےاستعمال کرے۔ “ اما م ابن مبارک کی روایت کی سند میں « سمع اباهريره » کے لفظ ہیں ( جبکہ مذکورہ بالا سند میں « عن ابي هريرة » ہے ) امام ابو بکر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ میں نے یونس کو کہتے ہوئے سنا کہ امام ابن عیینہ رحمہ اللہ سے « ومن استجمر فليوتر » ” اور جو شخص استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرے وہ طاق ڈھیلے استعمال کرے “ کا معنی پوچھا گیا تو ابن عیینہ رحمہ اللہ خاموش ہوگئے۔ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ امام مالک رحمہ اللہ کی تشریح و تفسیر کو قبول کریں گے؟ انہوں نےپوچھا کہ امام مالک رحمہ اللہ نےکیا فرمایا ہے؟ کہا گیا کہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتےہیں « الاستجمار » کا معنی ڈھیلوں سے استنجا کرنا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میری اور امام مالک کی مثال ایسے ہی ہے جیسے پہلے ( دانا ) لوگوں نے کہا ہے۔