کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مجمل غیر مفسر ممانعت کے بعد
حدیث نمبر: Q58
قَدْ يَحْسَبُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرْ فِي الْعِلْمِ أَنَّ الْبَوْلَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ جَائِزٌ لِكُلِّ بَائِلٍ، وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ كَانَ، وَيَتَوَهَّمُ مَنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَلَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْمُفَسَّرِ وَالْمُجْمَلِ أَنَّ فِعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا نَاسِخٌ لِنَهْيِهِ عَنِ الْبَوْلِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کم علم شخص اس سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنا ہر شخص کے لیے اور ہر جگہ جائز ہے-علم کی فہم وفراست نہ رکھنے والے اور مفسر ومجمل میں تمیز کرنے والے شخص کو وہم ہو سکتا ہے کہ نبی ﷺ کا فعل آپ کے قبلہ رخ پیشاب کرنے کی ممانعت کا ناسخ ہے۔
حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ ، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبلہ کی طرف مُنہ کر کے پیشاب کر نے سے منع کیا ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال قبل اس کی طرف منہ ( کرکے پیشاب ) کرتے ہوئے دیکھا۔