کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ دودھ پی کر منہ سے چکنائی ختم کرنے اور صفائی کے لیے کلی کرنا مستحب ہے ، دودھ پی کر کلی کرنا واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 47
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ بْنَ رَوْحٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عُقَيْلٍ وَهُوَ ابْنُ خَالِدٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَعْمَرًا . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ ، وَقَالَ : " إِنَّ لَهُ دَسَمًا " . وَقَالَ الصَّنْعَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ : أَوْ إِنَّهُ دَسَمٌ ، وَقَالَ بُنْدَارٌ : إِنَّهُ دَسَمٌ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پی کر کُلّی کی اور فرمایا: ” اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ “ صنعانی کی روایت میں ہے یا ” وہ چکنا ہوتا ہے “ بندار کی روایت میں ہے ” وہ چکنا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال اللواتي لا توجب الوضوء / حدیث: 47
تخریج حدیث «صحيح بخاري ، كتاب الوضوء باب هل يمضمض من اللبن ، رقم الحديث: 211 ، 5609 ، صحيح مسلم: 358 ، سنن ابي داود: 196 ، سنن الترمذي: 88 ، سنن النسائي: 187 ، احمد: 233/1 ، 227 ، 329 ، 373»