فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه

‏(‏27‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ خُرُوجَ الدَّمِ مِنْ غَيْرِ مَخْرَجِ الْحَدَثِ لَا يُوجِبُ الْوُضُوءَ

باب: اس حدیث کا بیان جو اس بات کی دلیل ہے کہ پیشاب یا پاخانے کی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون کا نکلنا وضو واجب نہیں کرتا

حدیث 36–36

‏(‏28‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ وَطْءَ الْأَنْجَاسِ لَا يُوجِبُ الْوُضُوءَ

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ گندگی روندنا وضو کو واجب نہیں کرتا

حدیث 37–37

‏(‏29‏)‏ بَابُ إِسْقَاطِ إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنْ أَكْلِ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ أَوْ غَيَّرَتْهُ

باب: جس کھانے کو آگ سے گرم کیا جائے یا پگایا جائے اس کے کھانے سے وضو واجب نہیں ہوتا

حدیث 38–40

‏(‏30‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّحْمَ الَّذِي تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوءَ مِنْ أَكْلِهِ كَانَ لَحْمَ غَنَمٍ لَا لَحْمَ إِبِلٍ

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس گوشت کے کھانے سے وضو نہیں کیا تھا وہ بکری کا گوشت تھا ، اونٹ کا گوشت نہیں

حدیث 41–41

‏(‏31‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ تَرْكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ أَوْ غَيَّرَتْ نَاسِخٌ لِوُضُوئِهِ كَانَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ أَوْ غَيَّرَتْ‏.‏

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آگ پر گرم ہونے والی یا اس پر پکنے والی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ، آگ سے گرم ہونے والی یا اس پر پکنے والی چیز سے آپ کے وضو کرنے کا ناسخ ہے

حدیث 42–43

‏(‏32‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ غَسْلِ الْيَدَيْنِ، وَالْمَضْمَضَةِ مِنْ أَكْلِ اللَّحْمِ؛ إِذِ الْعَرَبُ قَدْ تُسَمِّي غَسْلَ الْيَدَيْنِ وُضُوءًا

باب: گوشت کھانے سے ہاتھ نہ دھونے اور کلی نہ کرنے کی رخصت ہے کیونکہ عرب کبھی ہاتھ دھونے کو بھی وضو کہہ دیتے ہیں

حدیث 44–44

‏(‏33‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْكَلَامَ السَّيِّئَ وَالْفُحْشَ فِي الْمَنْطِقِ لَا يُوجِبُ وُضُوءًا

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ بدکلامی اور فحش گوئی وضو واجب نہیں کرتی

حدیث 45–45

‏(‏34‏)‏ بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ

باب: دودھ پی کر کلی کرنا مستحب ہے

حدیث 46–46

‏(‏35‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمَضْمَضَةَ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ اسْتِحْبَابٌ لِإِزَالَةِ الدَّسَمِ مِنَ الْفَمِ وَإِذْهَابِهِ، لَا لِإِيجَابِ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِهِ‏.‏

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ دودھ پی کر منہ سے چکنائی ختم کرنے اور صفائی کے لیے کلی کرنا مستحب ہے ، دودھ پی کر کلی کرنا واجب نہیں ہے

حدیث 47–47

‏(‏36‏)‏ بَابُ ذِكْرِ مَا كَانَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- فَرَّقَ بِهِ بَيْنَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ أُمَّتِهِ فِي النَّوْمِ؛

باب: اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے درمیان نیند میں فرق رکھا ہے

حدیث 48–49

اس باب کی تمام احادیث