حدیث نمبر: Q28
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَعْلَمَ أَنْ لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ عِنْدَ مَسْأَلَةٍ سُئِلَ عَنْهَا فِي الرَّجُلِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهُ رِيحٌ فَيَشُكُّ فِي خُرُوجِ الرِّيحِ، وَكَانَتْ هَذِهِ الْمَقَالَةُ عَنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ» جَوَابًا عَمَّا عَنْهُ سُئِلَ فَقَطْ لَا ابْتِدَاءَ كَلَامٍ مُسْقَطًا بِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ إِيجَابَ الْوُضُوءِ مِنْ غَيْرِ الرِّيحِ الَّتِي لَهَا صَوْتٌ أَوْ رَائِحَةٌ، إِذْ لَوْ كَانَ هَذَا الْقَوْلُ مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتِدَاءً مِنْ غَيْرِ أَنْ تَقَدَّمَتْهُ مَسْأَلَةٌ كَانَتْ هَذِهِ الْمَقَالَةُ تَنْفِي إِيجَابَ الْوُضُوءِ مِنَ الْبَوْلِ وَالنَّوْمِ وَالْمَذْيِ، إِذْ قَدْ يَكُونُ الْبَوْلُ لَا صَوْتٌ لَهُ وَلَا رِيحٌ، وَكَذَلِكَ النَّوْمُ وَالْمَذْيُ لَا صَوْتَ لَهُمَا وَلَا رِيحَ، وَكَذَلِكَ الْوَدْيُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ” وضو صرف آواز یا بُو محسوس ہونے پر واجب ہوتا ہے “ اس سوال کے جواب میں تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص خیال کرتا ہے کہ اس کے پیٹ سے کوئی چیز نکل گئی ہے تو وہ ہوا خارج ہونے کے متعلق شک میں پڑ جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان فقط اس سوال کا جواب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ایسا مستقل کلام نہ تھا جو بغیر آواز یا بُو کے وضو کے واجب ہونے کو ساقط کر دیتی ہے۔ کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بغیر سوال کے مستقل ہوتا تو اس سے پیشاب، نیند اور مذی سے وضو کے وجوب کی نفی ہو جاتی ہے، کیونکہ کبھی پیشاب کی آواز اور بُو نہیں ہوتی، اسی طرح نیند، مذی اور ودی کی نہ آواز ہوتی ہے نہ بُو۔
حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا فَأَشْكَلَ خَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَوْ لَمْ يَخْرُجْ ، فَلا يَخْرُجَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کوئی چیز محسوس کرے اور شک میں مُبتلا ہوجائے کہ آیا اس کے پیٹ سے کوئی چیز نکلی ہے یا نہیں، تو وہ ( مسجد سے ) ہر گز نہ نکلے حتیٰ کہ آواز سن لے یا بُو محسوس کرے۔ “
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلاتِهِ ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ ، فَلْيَقُلْ : كَذَبْتَ إِلا مَا وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ ، أَوْ سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ " . هَذَا لَفْظُ وَكِيعٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَوْلُهُ : فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ : أَرَادَ : فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ بِضَمِيرِهِ لا يَنْطِقُ بِلِسَانِهِ ، إِذِ الْمُصَلِّي غَيْرُ جَائِزٍ لَهُ أَنْ يَقُولَ كَذَبْتَ نُطْقًا بِلِسَانِهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس اس کی نماز کے دوران آتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے وضو توڑ لیا ہے، تو اسےکہنا چاہیے کہ تُو نے جھوٹ کہا ہے سوائے اس کے کہ اپنے کان سے آواز سن لے یا اپنی ناک سے بُومحسوس کرلے۔ امام ابوبکر رحمہ اللّٰہ کہتےہیں کہ « فَلْیَقُلْ کَذَبْتَ » اسےکہنا چاہیے کہ ” تو نے جھوٹ بولا ہے۔ “ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ نمازی اپنے دل میں کہے ( تا کہ اس کا وسوسہ دور ہو جائے ) زبان سے نہ کہے کیونکہ نمازی کے لیے زبان سے « کَذَبْتَ » کہنا جائز نہیں ہے ( یعنی اس کے لیے کلام کرنا منع ہے۔ )