کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ مذی نکلنے سے شرم گاہ کو دھونا اور اسے چھینٹے مارنا مستحب ہے فرض اور واجب نہیں
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً فَسُئِلَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَكْفِيكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَفِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الَّذِي فِي الْمَذْيِ ، قَالَ : " يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ " ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي بَابِ نَضْحِ الثَّوْبِ مِنَ الْمَذْيِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بہت زیادہ مذی والا شخص تھا ۔ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مذی ( نکلنے ) سے تمہارے لیے وضو کرنا کافی ہو گا ۔ “ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذی کے بارے میں سیدنا سھل بن حنیف کی پوری روایت کے الفاظ یوں ہیں « يكفيك من ذالك الوضوء » ” مذی نکلنے سے وضو کرنا تیرے لیے کافی ہو گا ۔ “ میں نے اسے مذی لگنے سے کپڑے دھونے کے باب میں ذکر کر دیا ہے ۔