کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مذی نکلنے سے وضو کرتے وقت شرم گاہ دھونے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَلِيٌّ : قَالَ : حَدَّثَنِي . ح وَقَالَ بِشْرٌ : قَالَ : حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً ، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ لَهُ ، فَقَالَ لِي : " لا تَفْعَلْ ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ ، فَإِذَا أَنْضَحْتَ الْمَاءَ ، فَاغْتَسَلَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَوْلُهُ : لا تَفْعَلْ : مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَقُولُ لَفْظُ زَجْرٍ ، يُرِيدُ نَفْيَ إِيجَابِ ذَلِكَ الْفِعْلِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں بکثرت مذی والا شخص تھا ۔ میں سردی کے موسم میں غسل کرتا تھا یہاں تک کہ میری کمر سردی کی وجہ سے پھٹ گئی ( اس میں درد ہونے لگا ) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” یہ ( غسل ) نہ کرو ، جب تم مذی ( نکلی ہوئی ) دیکھو تو شرم گاہ دھو لو اور نماز کو وضو جیسا وضو کر لو ، اور جب تمہاری منی نکل جائے تو غسل کرو ۔ “ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : « لا تفعل » ” نہ کرو “ کلمہ زجر ہے ، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مذی نکلنے پر غسل کرنے کے وجوب کی نفی کرنا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء / حدیث: 20
تخریج حدیث «اسناده صحیح ، سنن ابی داود ، كتاب الطهارة ، باب المذى: 206 ، النسائي ، الطهارة باب الغسل من المغنى رقم: 193 ، عن قتبه به مسند احمد: 826»