مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: وضو میں «عَضُدَين» (کندھے اور کہنی کے درمیان کے حصے تک بازو) دھو کر تجیل کو لمبا کرنا مستحب ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم (پر عمل کرنے) کی وجہ سے قیامت کے روز (مؤمن کا) زیور وضو کے مقامات تک پہنچے گا
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الصَّيْرَفِيُّ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ ، فَجَعَلَ يَبْلُغُ بِالْوَضُوءِ قَرِيبًا مِنْ إِبْطِهِ ، فَقُلْتُ لَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْحِلْيَةَ تَبْلُغُ مَوَاضِعَ الطُّهُورِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
ابوحازم رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو وہ وضو کے پانی کو اپنی بغلوں تک پہنچا رہے تھے ۔ میں نے ان سے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” بلاشبہ ( مومن ) کا زیور وضو کے مقامات تک پہنچے گا ۔“ ( اس لیے میں پانی کو بغلوں تک پہنچا رہا ہوں ۔ )
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: الوضوء / حدیث: 7
حدیث تخریج «صحيح مسلم ، كتاب الطهارة باب تبلغ الحلية حيث يبلغ الوضوء ، رقم: 250 ، سنن نسائي ، رقم: 149 ، مسند احمد ، رقم: 371/2 ، ابن حبان رقم: 1045 - من طريق على بن مسهر»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔