مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ، جسے اللہ تعالیٰ نے بہترین امت بنایا اور انہیں لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کیا ہے ، کی نشانی قیامت کے روز آثار وضو ہو گی جس سے وہ پہچانے جائیں گے
حدیث نمبر: 6
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ حَدَّثَهُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلاءَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ ، فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِهَا ، وَقَالَ : " سَلامٌ عَلَيْكُمْ أَهْلَ دَارِ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنَّ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا " ، قَالُوا : أَوَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانِي قَوْمٌ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " ، قَالُوا : وَكَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ رَجُلا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ ، أَلا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، أَلا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ ، أُنَادِيهِمْ أَلا هَلُمَّ ، فَيُقَالَ : إِنَّهُمْ قَدْ أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، وَأَقُولُ سُحْقًا ، سُحْقًا " . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک روز ) قبرستان تشریف لے گئے اور وہاں مدفون لوگوں کو سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : ” ( اے ) مومن قوم کے گھروالو تم پر سلام ہو ، اور بیشک ہم بھی ، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا ، تم سے ملنے والے ہیں ۔ میری آرزو اور تمنّا ہے کہ ہم ا پنے بھائیوں کو دیکھیں ۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میرے صحابہ ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آئے اور میں تم سے پہلے کوثر پر ہوں گا “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اُمّتی ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُنہیں کیسے پہچانیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے ، اگر کسی آدمی کے سفید پیشانی اور چمکدار پاؤں والے گھوڑے سیاہ فام گھوڑوں میں ملے ہوئے ہوں ، تو کیا وہ اپنے گھوڑے پہچان نہیں لے گا ؟ “ صحابہ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( وہ ضرورپہچان لے گا ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک وہ آئیں گے تو ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضو کے اثر سے چمک رہے ہوں گے ، میں حوض کوثر پر ان کا پیش خیمہ ہوں گا ، خبردار ، میرے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح دھتکار دیا جاے گا جس طرح گم راہ ( بھٹکا ہوا ) اُونٹ دھتکار دیا جاتا ہے میں انہیں پکاروں گا، آجاؤ ، تو کہا جائے گا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ( دین میں ) نئے نئے کام ایجاد کر لیے تھے ۔ تو میں کہوں گا ، ( اللہ کی رحمت سے ) دور ہو جاؤ دور ہو جاؤ ۔ “ یہ ابن علیہ کی روایت کے الفاظ ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: الوضوء / حدیث: 6
حدیث تخریج «صحيح مسلم ، كتاب الطهارة ، باب استحباب اطالة الغرة والتحجيل فى الوضوء ، رقم: 249 ، سنن نسائي ، رقم: 150 ، سنن ابي داود: 3237 ، سنن ابن ماجه ، رقم: 4306 ، موطا امام مالك ، رقم: 57 ، احمد 300/2»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔