حدیث نمبر: 1657
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : " أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا ، فَقَالَ : مَا فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ أَوْ ضَرَبَهُ فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " .
ابوعوانہ نے فراس سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے ابوعمر زاذان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاں آیا جبکہ انہوں نے ایک غلام کو آزاد کیا تھا۔ کہا: انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز پکڑی اور کہا: اس میں اتنا بھی اجر نہیں جو اس کے برابر ہو اس کے سوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے زد و کوب کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے۔“ (اس حکم کو ماننے کا اجر ہو سکتا ہے۔)
حدیث نمبر: 1657
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَاذَانَ : " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَعَا بِغُلَامٍ لَهُ ، فَرَأَى بِظَهْرِهِ أَثَرًا ، فَقَالَ لَهُ : أَوْجَعْتُكَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَنْتَ عَتِيقٌ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : مَا لِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " ،
شعبہ نے ہمیں فراس سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو بلایا اور اس کی پشت پر (ضرب کا) نشان دیکھا تو اس سے کہا: میں نے تمہیں دکھ دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تم آزاد ہو۔ کہا: پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز پکڑی اور کہا: میرے لیے اس میں اتنا بھی اجر نہیں ہے جو اس کے برابر ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے: ”جس نے اپنے غلام کو حد لگانے کے لیے (ایسے کام پر) مارا جو اس نے نہیں کیا یا اسے طمانچہ مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔“
حدیث نمبر: 1657
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ ، وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، فَذَكَرَ فِيهِ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَدَّ .
وکیع اور عبدالرحمان (بن مہدی) دونوں نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے فراس سے شعبہ اور ابوعوانہ کی سند کے ساتھ روایت کی، ابن مہدی نے اپنی حدیث میں حد کا ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے: ”جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا۔“ انہوں نے حد کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : " لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا ، فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي ، ثُمَّ قَالَ : امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا ، ثُمَّ قَالَ : كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَعْتِقُوهَا ، قَالُوا : لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا ، قَالَ : " ، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا " .
معاویہ بن سوید (بن مُقرن) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور وہ بھاگ گیا، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا، پھر (غلام سے) کہا: اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا۔ پھر انہوں (میرے والد) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ لوگوں نے کہا: ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (فی الحال) اس سے خدمت لیں، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں (دوسرا انتظام ہو جائے) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں (اسے آزاد کر دیں۔)“
حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ : عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ : " عَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ ، مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا " ،
حضرت ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ ایک بوڑھے نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے اپنے خادم کو تھپڑ مار دیا، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے، کیا تمہیں اس کے شریف عضو چہرے کے سوا کوئی جگہ نہ ملی، میں نے اپنے آپ کو بنو مقرن میں ساتواں بیٹا پایا، اور ہمارا خادم ایک ہی تھا، ہم میں سے چھوٹے نے اسے تھپڑ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے آزاد کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ : كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا كَلِمَةً ، فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ .
حضرت ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ ہم نعمان بن مقرن کے بھائی سوید بن مقرن کے احاطہ میں کپڑا بیچتے تھے، تو ایک لونڈی گھر سے نکلی، اس نے ہم میں سے ایک آدمی کو کوئی بات کہی، اس نے اس کو تھپڑ مارا، جس پر حضرت سوید ناراض ہو گئے، اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1658
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ : مَا اسْمُكَ ؟ ، قُلْتُ : شُعْبَةُ ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ : " أَنَّ جَارِيَةً لَهُ لَطَمَهَا إِنْسَانٌ ، فَقَالَ لَهُ : سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ إِخْوَةٍ لِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا خَادِمٌ غَيْرُ وَاحِدٍ ، فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ " ،
عبدالصمد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھ سے محمد بن منکدر نے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: شعبہ۔ تو محمد نے کہا: مجھے ابوشعبہ عراقی (مولیٰ سوید بن مقرن) نے سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ان کی لونڈی کو کسی انسان نے تھپڑ مارا تو سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ حرمت والا (ہوتا) ہے اور کہا: میں نے خود کو، اور میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دیکھا اور ہمارے پاس سوائے ایک کے کوئی اور خادم نہ تھا۔ ہم میں سے کسی نے عمداً اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔
حدیث نمبر: 1658
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ؟ مَا اسْمُكَ ؟ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ .
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ شعبہ نے کہا، مجھ سے محمد بن منکدر نے پوچھا، تیرا نام کیا ہے؟ آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔
حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : " كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي بِالسَّوْطِ ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ فَلَمْ أَفْهَمْ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ ، قَالَ : فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ ، يَقُولُ : اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي ، فَقَالَ : اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ ، فَقُلْتُ : لَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا بَعْدَهُ أَبَدًا " ،
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک تیمی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی: ”ابومسعود! جان لو۔“ میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا، کہا: جب وہ (کہنے والے) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، آپ فرما رہے تھے: ”ابومسعود! جان لو، ابومسعود! جان لو۔“ کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا، تو آپ نے فرمایا: ”ابومسعود! جان لو۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے۔“ کہا: تو میں نے کہا: اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا۔
حدیث نمبر: 1659
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ .
جریر، سفیان اور ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی (سابقہ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر جریر کی حدیث میں ہے: آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔
حدیث نمبر: 1659
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ " .
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی، ”جان لو! اے ابو مسعود، اللہ تعالیٰ کو تجھ پر اس سے زیادہ قدرت حاصل ہے، جتنی تمہیں اس پر حاصل ہے۔‘‘ تو میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اس پر میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہ کرتے، تو تمہیں آگ جھلساتی یا آگ پہنچتی۔‘‘
حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ : " أَنَّهُ كَانَ يَضْرِبُ غُلَامَهُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَضْرِبُهُ ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ ، فَتَرَكَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَأَعْتَقَهُ " ،
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے، تو وہ اللہ کی پناہ طلب کرنے لگا، اور وہ اسے مارتا رہا، تو اس نے کہا، میں اللہ کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں، تو اس نے اسے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کو تم پر اس سے زیادہ قدرت حاصل ہے، جتنی تمہیں اس پر حاصل ہے۔‘‘ تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: 1659
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ خبر دی اور انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے: ”میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں“ (اور) ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں۔“