کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: بعض لڑکوں کو کم دینا اور بعض کو زیادہ دینا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يُحَدِّثَانِهِ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا ، فَقَالَ : لَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَارْجِعْهُ " .
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا باپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، اور عرض کیا، میں نے اپنے اس بچہ کو اپنا غلام ہبہ کر دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنی تمام اولاد کو اسی قسم کا عطیہ دیا ہے؟‘‘ تو اس نے کہا، نہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (غلام) کو واپس لو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَتَى بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا ، فَقَالَ : أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ ، قَالَ : لَا قَالَ : فَارْدُدْهُ " ،
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا باپ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام کا عطیہ دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے تمام اولاد کو عطیہ دیا ہے؟‘‘ اس نے کہا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”اسے واپس لے لو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا يُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ ، فَفِي حَدِيثِهِمَا أَكُلَّ بَنِيكَ ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَكُلَّ وَلَدِكَ وَرِوَايَةُ اللَّيْثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ بَشِيرًا جَاءَ بِالنُّعْمَانِ .
امام صاحب اپنے بہت سے اساتذہ کی سندوں سے امام زہری ہی کے واسطہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، امام زہری کے شاگرد معمر اور یونس کہتے ہیں، (أكل بنيك)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : " وَقَدْ أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا الْغُلَامُ ؟ قَالَ : أَعْطَانِيهِ أَبِي ، قَالَ : فَكُلَّ إِخْوَتِهِ أَعْطَيْتَهُ كَمَا أَعْطَيْتَ هَذَا ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَرُدَّهُ " .
عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”یہ کیسا غلام ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ میرے والد نے مجھے دیا ہے۔ (پھر) آپ نے (نعمان رضی اللہ عنہ کے والد سے) پوچھا: ”تم نے اس کے تمام بھائیوں کو بھی اسی طرح عطیہ دیا ہے جیسے اس کو دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اسے واپس لو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " تَصَدَّقَ عَلَيَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ ، فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ " فَرَجَعَ أَبِي فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ .
حصین نے شعبی سے، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے ہبہ کیا (یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے) تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا: میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ (ہبہ) پر گواہ بنائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے یہ (سلوک) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو۔“ چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ (ہبہ) واپس لے لیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ : " أَنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لِابْنِهَا ، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ ، فَقَالَتْ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لِابْنِي ، فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى الَّذِي وَهَبْتُ لِابْنِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بَشِيرُ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَكُلَّهُمْ وَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ هَذَا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
ابوحیان تیمی نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی: مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ان کی والدہ، (عمرہ) بنت رواحہ نے ان کے والد سے، ان کے مال میں سے، اپنے بیٹے کے لیے (باغ، زمین وغیرہ) کچھ ہبہ کیے جانے کا مطالبہ کیا، انہوں نے اسے ایک سال تک التواء میں رکھا، پھر انہیں (اس کا) خیال آیا تو انہوں (والدہ) نے کہا: میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اس پر، جو تم نے میرے بیٹے کے لیے ہبہ کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ تھاما، میں ان دنوں بچہ تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس کی والدہ بنت رواحہ کو یہ پسند ہے کہ میں آپ کو اس چیز پر گواہ بناؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے بشیر! کیا اس کے سوا بھی تمہارے بچے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: ”کیا ان سب میں سے ہر ایک کو تم نے اسی طرح ہبہ کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ هَذَا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے سوا، تیرے بیٹے ہیں؟‘‘ اس نے کہا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا سب کو اسی طرح دیا ہے؟‘‘ اس نے کہا، نہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”تو میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِأَبِيهِ لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ " .
عاصم احول نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا: ”مجھے ظلم پر گواہ مت بناؤ۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ جميعا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي ، فَقَالَ : أَكُلَّ بَنِيكَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، ثُمَّ قَالَ : أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَلَا إِذًا " .
داود بن ابی ہند نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد مجھے اٹھائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! گواہ رہیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی جیسا عطیہ دیا ہے جیسا تم نے نعمان کو دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ۔“ پھر فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ سب تمہارے ساتھ نیکی (حسنِ سلوک) کرنے میں برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: ”تو پھر (تم بھی ایسا) نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا ثُمَّ أَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ ، فَقَالَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمُ الْبِرَّ مِثْلَ مَا تُرِيدُ مِنْ ذَا ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ : إِنَّمَا تَحَدَّثْنَا ، أَنَّهُ قَالَ : قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ " .
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا، پھر وہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تاکہ آپﷺ کو گواہ بنائے، تو آپﷺ نے پوچھا، ”کیا تو نے اپنی سب اولاد کو یہ دیا ہے؟‘‘ اس نے کہا، نہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ان سے اس طرح کا حسن سلوک نہیں چاہتا، جیسا کہ اس سے چاہتا ہے؟‘‘ اس نے کہا، کیوں نہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”تو میں گواہ نہیں بنتا‘‘۔ ابن عون کہتے ہیں، میں نے یہ روایت محمد بن سیرین کو سنائی، تو اس نے کہا، ہمیں یوں بتایا گیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد میں مساوات رکھو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1624
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ : " انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي ، وَقَالَتْ أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلَهُ إِخْوَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ " .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دو اور میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: فلاں کی بیٹی نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دوں اور اس نے کہا ہے: میرے لیے (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ۔ تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس کے اور بھائی ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا ان سب کو بھی تم نے اسی طرح عطیہ دیا ہے جس طرح اسے دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ درست نہیں اور میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الهبات / حدیث: 1624
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»