کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: بادل گرجنے کے وقت کیا کہنا چاہیے
حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَكَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ : " سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ، ثُمَّ يَقُولُ : إِنَّ هَذَا لَوَعِيدٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ شَدِيدٌ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر جب گرج کی آواز سنتے تو بات کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے: پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی بیان کرتا ہے رعد (ایک فرشتہ ہے جو مقرر ہے ابر (بادل) پر، اس کی آواز ہے جو گرج معلوم ہوتی ہے)، اور بیان کرتے ہیں فرشتے پاکی اس کی اس کے ڈر سے۔ پھر کہتے تھے: یہ آواز زمین کے رہنے والوں کے واسطے سخت وعید ہے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 1830
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
حدیث تخریج «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6563، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29205، بخاري فى «الادب المفرد» برقم: 723، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 26»