حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ ، حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَقَالُوا : أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا ؟ قَالَ : لَا ، قَالُوا : تَذَكَّرْ ، قَالَ : كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ ، فَآمُرُ فِتْيَانِي : أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ ، وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تَجَوَّزُوا عَنْهُ " .
منصور نے ہمیں ربعی بن حراش سے حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ (بن یمان رضی اللہ عنہ) نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: یاد کر، اس نے کہا: میں (دنیا میں) لوگوں کے ساتھ قرض کا معاملہ کرتا تو اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگدست کو مہلت دیں اور خوشحال سے نرمی برتیں۔ (انہوں نے) کہا: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: (تم بھی) اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو۔“
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " رَجُلٌ لَقِيَ رَبَّهُ ، فَقَالَ : مَا عَمِلْتَ ؟ قَالَ : مَا عَمِلْتُ مِنَ الْخَيْرِ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ رَجُلًا ذَا مَالٍ ، فَكُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ ، فَكُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُورِ ، فَقَالَ : تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
نُعَیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت حذیفہ اور حضرت ابومسعود (انصاری) رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک آدمی اللہ عزوجل کے حضور پیش ہوا تو اللہ نے پوچھا: ”تو نے کیا عمل کیا؟“ اس نے کہا: میں نے کوئی نیکی نہیں کی، سوائے اس کے کہ میں مالدار آدمی تھا، میں لوگوں سے اس (میں سے دیے ہوئے قرض) کا مطالبہ کرتا تو مالدار سے خوش دلی سے قبول کرتا اور تنگ دست سے درگزر (مزید مہلت دیتا یا نہ دے سکتا تو معاف) کرتا۔ فرمایا: ”(تم بھی) میرے بندے سے درگزر کرو۔“ (یہ سن کر) حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا كُنْتَ تَعْمَلُ ؟ قَالَ : فَإِمَّا ذَكَرَ ، وَإِمَّا ذُكِّرَ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ ، فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ ، أَوْ فِي النَّقْدِ ، فَغُفِرَ لَهُ " ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبدالملک بن عمیر نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”ایک آدمی فوت ہوا اور جنت میں داخل ہوا تو اس سے کہا گیا: تو کیا عمل کرتا تھا؟۔۔ کہا: اس نے خود یاد کیا یا اسے یاد کرایا گیا۔۔ اس نے کہا: (اے میرے پروردگار!) میں لوگوں سے (قرض پر) خرید و فروخت کرتا تھا، تو میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکہ اور نقدی وصول کرنے میں نرمی کرتا تھا، تو اس کی مغفرت کر دی گئی۔“ اس پر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ ، آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَقَالَ لَهُ : مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا ، قَالَ : يَا رَبِّ ، آتَيْتَنِي مَالَكَ ، فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ ، فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، فَقَالَ اللَّهُ : أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " ، فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ : هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سعد بن طارق نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے بندوں میں سے ایک بندہ پیش کیا گیا: اللہ نے اسے مال دیا تھا، تو اللہ نے اس سے پوچھا: تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ انہوں نے کہا: اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ اس نے عرض کی: میرے رب! تو نے مجھے مال دیا تھا، میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور میری عادت نرمی اور آسانی کرنا تھی۔ میں مالدار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: تمہاری نسبت میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں، (فرشتو!) تم بھی میرے بندے سے درگزر کرو۔“ حضرت عقبہ بن عامر جہنی اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے بھی یہ حدیث اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سنی تھی۔
حدیث نمبر: 1561
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ مُوسِرًا ، فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ ، تَجَاوَزُوا عَنْهُ " .
شقیق نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کی کوئی نیکی نہ ملی، سوائے یہ کہ وہ لوگوں سے معاملات کرتا تھا اور وہ مالدار آدمی تھا۔ تو وہ اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم اس کی نسبت اس کا زیادہ حق رکھتے ہیں، تم بھی اس سے درگزر کرو۔“
حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ مَنْصُورٌ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ : إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا ، فَتَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا ، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی لوگوں سے ادھار لین دین کرتا تھا، لوگوں کو ادھار سامان دیتا تھا، اور اپنے خادم سے کہتا تھا، جب تو تنگدست کے پاس جائے تو اس سے درگزر کرنا، امید ہے، اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے گا، تو جب وہ اللہ سے ملا، اللہ تعالیٰ نے اس سے (اس کے گمان کے مطابق) درگزر فرمایا۔‘‘
حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ .
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے۔۔۔ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔
حدیث نمبر: 1563
حَدَّثَنَا أَبُو الْهَيْثَمِ خَالِدُ بْنُ خِدَاشِ بْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ : طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ فَتَوَارَى عَنْهُ ، ثُمَّ وَجَدَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُعْسِرٌ ، فَقَالَ : آللَّهِ ، قَالَ : آللَّهِ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ " .
عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ایک مقروض کو تلاش کیا، تو وہ ان سے چھپ گیا، پھر انہوں نے اسے پا لیا، تو اس نے کہا، میں تنگدست ہوں، ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اللہ کی قسم، (واقعی تم تنگدست ہو؟) اس نے جواب دیا، اللہ کی قسم (میں واقعی تنگدست ہوں) انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، ”جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی تکالیف اور گھٹن سے نجات دے، تو وہ تنگدست کو سہولت و آسانی یا گنجائش دے یا اسے چھوڑ دے۔‘‘
حدیث نمبر: 1563
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
جریر بن حازم نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔