کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 1504
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا ، فَقَالَ أَهْلُهَا : نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کرنے کے لیے خریدنے کا ارادہ کیا، تو اس کے مالکوں نے کہا، ہم آپ کو اس شرط پر بیچیں گے کہ اس کی نسبت آزادی ہماری طرف ہو گی۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی شرط تمہیں آزادی دینے سے نہ روکے، کیونکہ ولاء تو صرف آزاد کرنے والے کا حق ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا ، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي ، فَعَلْتُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا ، وَقَالُوا : إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَلَيْسَ لَهُ ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ " .
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے روایت کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی۔ وہ ان سے اپنی مکاتبت (قیمت ادا کر کے آزادی کا معاہدہ کرنے) کے سلسلے میں مدد مانگ رہی تھی، اس نے اپنی مکاتبت کی رقم میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت کی رقم ادا کروں اور تمہارا حقِ ولاء میرے لیے ہو، تو میں (تمہاری قیمت کی ادائیگی) کر دوں گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ اپنے مالکوں سے کہی تو انہوں نے انکار کر دیا، اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ نیکی کرنا چاہتی ہیں تو کریں، لیکن تمہاری ولاء کا حق ہمارا ہی ہو گا۔ اس پر انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”تم خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر پر) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہوا ہے وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب (کی تعلیمات) میں نہیں۔ جس نے ایسی شرط رکھی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو اسے اس کا کوئی حق نہیں چاہے وہ سو مرتبہ شرط رکھ لے۔ اللہ کی شرط زیادہ حق رکھتی ہے اور وہی زیادہ مضبوط ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ ، فَقَالَتْ : يَا عَائِشَةُ ، إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَزَادَ فَقَالَ : لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ .
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر مکاتبت (قیمت کی ادائیگی پر آزاد ہو جانے کا معاہدہ) کیا ہے، ہر سال میں ایک اوقیہ (40 درہم ادا کرنا) ہے، آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی ہے اور (اس میں) یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ان کی یہ بات (بریرہ کو آزاد کرنے سے) نہ روکے۔ اسے خریدو اور آزاد کر دو۔“ اور (یونس نے) حدیث میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”امابعد!“ (خطبہ دیا جس میں شرط والی بات ارشاد فرمائی)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ ، فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ ، فَأَعِينِينِي ، فَقُلْتُ لَهَا : إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي ، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ ، فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ ، قَالَتْ : فَانْتَهَرْتُهَا ، فَقَالَتْ : لَا هَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، فَفَعَلْتُ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "
حضرت عائشہ ‬ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میرے پاس بریرہ ‬ رضی اللہ تعالی عنہا آئی اور کہا، میرے مالکوں نے میرے ساتھ، نو سال کے عرصہ کے لیے نو اوقیہ پر کتابت کی ہے، ہر سال ایک اوقیہ دینا ہو گا، آپ میرا تعاون فرمائیں، تو میں نے اسے جواب دیا، اگر تیرے مالک چاہیں تو میں ساری رقم یکمشت ادا کر کے تمہیں آزاد کر دیتی ہوں اور نسبت آزادی میری طرف ہو گی، تو میں ایسا کر دیتی ہوں، اس نے اس کا ذکر اپنے مالکوں سے کیا انہوں نے ولاء اپنے لیے لیے بغیر، اس سے انکار کر دیا، تو اس نے آ کر مجھے بتایا تو میں نے اس کی سرزنش کی، اور کہا، اللہ کی قسم! تب نہیں ہو گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بات سن لی اور مجھ سے پوچھا، تو میں نے آپﷺ کو بتایا، آپﷺ نے فرمایا: خرید لو اور اسے آزاد کر دو، اور ان کی ولاء کی شرط مان لو، ولاء تو اس کو ملنی ہے، جس نے آزادی دی۔ تو میں نے ایسا کیا، پھر شام کو آپﷺ نے خطاب فرمایا: اللہ کی حمد و ثناء بیان کی جو اس کی شان کے لائق ہے، پھر فرمایا: ”امابعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں، جن کی اللہ کے حکم میں گنجائش نہیں ہے؟ جو شرط بھی ایسی ہو گی، جس کی اللہ کے قانون میں گنجائش نہیں، تو وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرط ہوں، اللہ کا حکم ہی صحیح سے اور اللہ کی شرط ہی مستحکم ہے، تم میں سے کچھ مردوں کو کیا ہو گیا ہے، ان میں سے کوئی کہتا ہے تم فلاں کو آزاد کر دو اور نسبت آزادی میری طرف ہو گی، ولاء تو بس آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا عَنْ جَرِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ : وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ أَمَّا بَعْدُ .
امام صاحب اپنے پانچ اساتذہ کی اسناد سے ہشام بن عروہ کی سند سے ہی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، ہشام کے شاگرد جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے، اور بریرہ کا خاوند غلام تھا، اس لیے (بریرہ کی آزادی پر) آپﷺ نے اسے اختیار دیا (کہ وہ اس کے نکاح میں رہے یا نہ رہے) تو اس نے اپنے لیے علیحدگی پسند کی اور اگر وہ (شوہر) آزاد ہوتا، تو آپﷺ اسے (بریرہ کو) اختیار نہ دیتے، اور ان حضرات کی روایت میں (امابعد) کا لفظ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، قَالَتْ : وَعَتَقَتْ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، قَالَتْ : وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ " .
ہشام بن عروہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین فیصلے ہوئے: اس کے مالکوں نے چاہا کہ اسے بیچ دیں اور اس کے حقِ ولاء کو (اپنے لیے) مشروط کر دیں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا: ”اسے خریدو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔“ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: وہ آزاد ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا، اس نے اپنی ذات (کو آزاد رکھنے) کا انتخاب کیا۔ (حضرت عائشہ نے) کہا: لوگ اس پر صدقہ کرتے تھے اور وہ (اس میں سے کچھ) ہمیں ہدیہ کرتی تھی، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا: ”وہ اس پر صدقہ ہے اور تم لوگوں کے لیے ہدیہ ہے، لہذا اسے کھا لیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ " ، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
سماک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو انصار کے لوگوں سے خریدا، انہوں نے ولاء کی شرط لگائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء (کا حق) اسی کے لیے ہے جس نے (آزادی کی) نعمت کا اہتمام کیا۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا جبکہ اس کا شوہر غلام تھا۔ اور اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت ہدیہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ہمارے لیے اس گوشت سے (سالن) تیار کرتیں؟“ حضرت عائشہ نے کہا: یہ (گوشت) بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " ، وَخُيِّرَتْ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي .
ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو ان لوگوں (مالکوں) نے اس کی ولاء کی شرط لگا دی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے خریدو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے) گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا تو انہوں (گھر والوں) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ اور اسے اختیار دیا گیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا: اس کا شوہر آزاد تھا۔ شعبہ نے کہا: میں نے پھر سے اس کے شوہر کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا (وہ آزاد تھا یا غلام۔ شک کے بغیر، یقین کے ساتھ کی گئی روایت یہی ہے کہ وہ غلام تھا)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
شعبہ نے پہلی سند سے اس طرح روایت بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هِشَامٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، وأَبُو هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا " .
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1504
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ ، خُيِّرَتْ عَلَى زَوْجِهَا حِينَ عَتَقَتْ ، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ ، فَدَعَا بِطَعَامٍ ، فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدُمٍ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَى النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ ؟ " ، فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَكَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ " ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا : " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین سنتیں (متعین) ہوئیں: جب وہ آزاد ہوئی تو اس کے شوہر کے حوالے سے اسے اختیار دیا گیا۔ اسے گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو ہنڈیا چولھے پر تھی، آپ نے کھانا طلب فرمایا تو آپ کو روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا، آپ نے فرمایا: ”کیا میں نے آگ پر چڑھی ہنڈیا نہیں دیکھی جس میں گوشت تھا؟“ گھر والوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! وہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا تو ہمیں اچھا نہ لگا کہ ہم آپ کو اس میں سے کھلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی (بریرہ رضی اللہ عنہا) کے بارے میں فرمایا تھا: ”حقِ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1505
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا ، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ ایک لونڈی خرید کر آزاد کریں تو اس کے مالکوں نے (اسے بیچنے سے) انکار کیا، الا یہ کہ حقِ ولاء ان کا ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا: ”یہ شرط تمہیں (نیکی سے) نہ روکے، کیونکہ حقِ ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العتق / حدیث: 1505
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»