کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ عزوجل کا (سورۃ الجمعہ میں) یہ فرمانا کہ جب جمعہ کی نماز ختم ہو جائے تو اپنے کام کاج کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل (روزی، رزق یا علم) کو ڈھونڈو۔
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : " كَانَتْ فِينَا امْرَأَةٌ تَجْعَلُ عَلَى أَرْبِعَاءَ فِي مَزْرَعَةٍ لَهَا سِلْقًا ، فَكَانَتْ إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ تَنْزِعُ أُصُولَ السِّلْقِ فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ ، ثُمَّ تَجْعَلُ عَلَيْهِ قَبْضَةً مِنْ شَعِيرٍ تَطْحَنُهَا فَتَكُونُ أُصُولُ السِّلْقِ عَرْقَهُ ، وَكُنَّا نَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَتُقَرِّبُ ذَلِكَ الطَّعَامَ إِلَيْنَا فَنَلْعَقُهُ ، وَكُنَّا نَتَمَنَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِطَعَامِهَا ذَلِكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطر مدنی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے سہل بن سعد کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہمارے یہاں ایک عورت تھی جو نالوں پر اپنے ایک کھیت میں چقندر بوتی ۔ جمعہ کا دن آتا تو وہ چقندر اکھاڑ لاتیں اور اسے ایک ہانڈی میں پکاتیں پھر اوپر سے ایک مٹھی جو کا آٹا چھڑک دیتیں ۔ اس طرح یہ چقندر گوشت کی طرح ہو جاتے ۔ جمعہ سے واپسی میں ہم انہیں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوتے تو یہی پکوان ہمارے آگے کر دیتیں اور ہم اسے چاٹ جاتے ۔ ہم لوگ ہر جمعہ کو ان کے اس کھانے کے آرزومند رہا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجمعة / حدیث: 938
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 939
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ بِهَذَا ، وَقَالَ : " مَا كُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبد العزیز بن ابی حازم نے بیان کیا اپنے باپ سے اور ان سے سہل بن سعد نے یہی بیان کیا اور فرمایا کہ` دوپہر کا سونا اور دوپہر کا کھانا جمعہ کی نماز کے بعد رکھتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجمعة / حدیث: 939
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة