حدیث نمبر: 883
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے سعید مقبری سے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے باپ ابوسعید مقبری نے عبداللہ بن ودیعہ سے خبر دی ، ان سے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے ، پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموش سنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 884
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ طَاوُسٌ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَأَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی کہ طاؤس بن کیسان نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن اگرچہ جنابت نہ ہو لیکن غسل کرو اور اپنے سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ غسل کا حکم تو ٹھیک ہے لیکن خوشبو کے متعلق مجھے علم نہیں ۔
حدیث نمبر: 885
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : لَا أَعْلَمُهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی ، کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھے ابراہیم بن میسرہ نے طاؤس سے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ،` آپ نے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ کیا تیل اور خوشبو کا استعمال بھی ضروری ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں ۔