حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي "
علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں پاک نہیں ہوتی ہوں، تو کیا چھوڑ دوں نماز کو؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”یہ خون کسی رگ کا ہے اور حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو چھوڑ دے نماز کو، پھر جب مدت گزر جائے تو خون دھو کر نماز پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 134
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لِتَنْظُرْ إِلَى عَدَدِ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا ، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ، ثُمَّ لِتُصَلِّي "
علامہ وحید الزماں
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خون بہا کرتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں، تو فتویٰ پوچھا اسی کے واسطے سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”شمار کرے اُن دنوں اور راتوں کا جن میں حیض آتا تھا قبل اس بیماری کے، تو چھوڑ دے نماز کو اس قدر مدت میں ہر مہینے سے، پس جب گزر جائے وہ مدت تو غسل کرے اور ایک کپڑا باندھ لے فرج پر، پھر نماز پڑھے۔“
حدیث نمبر: 135
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، " أَنَّهَا رَأَتْ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَكَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي "
علامہ وحید الزماں
زینب بنت ابی سلمہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے دیکھا سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو جو نکا ح میں تھیں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے۔ اُن کو استحاضہ تھا اور وہ غسل کر کے نماز پڑھتی تھیں۔
حدیث نمبر: 136
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ الْقَعْقَاعَ بْنَ حَكِيمٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ أَرْسَلَاهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ يَسْأَلُهُ كَيْفَ تَغْتَسِلُ الْمُسْتَحَاضَةُ ؟ فَقَالَ : " تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ ، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَثْفَرَتْ "
علامہ وحید الزماں
سُمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت قعقاع بن حکیم اور زید بن اسلم نے سُمی کو بھیجا حضرت سعید بن مسیّب کے پاس کہ پوچھیں اُن سے کیونکر غسل کرے مستحاضہ؟ کہا سعید نے: غسل کرے ایک طہر سے دوسرے طہر تک اور وضو کرے ہر نماز کے لیے، اگر خون بہت آئے تو ایک کپڑا باندھ لے فرج پر۔
حدیث نمبر: 137
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَحَاضَةِ إِلَّا أَنْ تَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأُ بَعْدَ ذَلِكَ لِكُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ إِذَا صَلَّتْ أَنَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يُصِيبَهَا ، وَكَذَلِكَ النُّفَسَاءُ إِذَا بَلَغَتْ أَقْصَى مَا يُمْسِكُ النِّسَاءَ الدَّمُ ، فَإِنْ رَأَتِ الدَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يُصِيبُهَا زَوْجُهَا وَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ . قَالَ يَحْيَى . قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ عَلَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهُوَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، کہا انہوں نے: مستحاضہ پر ایک ہی غسل ہے، پھر وضو کیا کرے ہر نماز کے لیے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ مستحاضہ جب نماز پڑھنے لگے تو خاوند کو جماع بھی درست ہے۔ اسی طرح نفساء تو جب مدت مقرر کی انتہاء تک خون آئے اور بعد اس کے بھی خون دیکھے تو خاوند اس سے جماع کر سکتا ہے، اور یہ خون بھی منزلہ استحاضہ ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک حکم مستحاضہ کا عروہ کی حدیث کے موافق ہے، جس کو روایت کیا عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے، جو ابتدائے باب میں گزری اور جتنی روایتیں میں نے اس باب میں سنیں اُن سے مجھ کو وہ روایت زیادہ پسند ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ مستحاضہ جب نماز پڑھنے لگے تو خاوند کو جماع بھی درست ہے۔ اسی طرح نفساء تو جب مدت مقرر کی انتہاء تک خون آئے اور بعد اس کے بھی خون دیکھے تو خاوند اس سے جماع کر سکتا ہے، اور یہ خون بھی منزلہ استحاضہ ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک حکم مستحاضہ کا عروہ کی حدیث کے موافق ہے، جس کو روایت کیا عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے، جو ابتدائے باب میں گزری اور جتنی روایتیں میں نے اس باب میں سنیں اُن سے مجھ کو وہ روایت زیادہ پسند ہے۔