حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِنَ الْجُرُفِ حَتَّى إِذَا كَانَا بِالْمِرْبَدِ نَزَلَ عَبْدُ اللَّهِ فَتَيَمَّمَ صَعِيدًا طَيِّبًا ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ صَلَّى "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جرف سے آئے، تو جب پہنچے مربد کو اُترے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور متوجہ ہوئے پاک زمین کی طرف تو مسح کیا اپنے منہ کا اور ہاتھوں کا کہنیوں تک پھر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 121
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَتَيَمَّمُ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . وَسُئِلَ مَالِك كَيْفَ التَّيَمُّمُ ؟ وَأَيْنَ يَبْلُغُ بِهِ ؟ فَقَالَ : يَضْرِبُ ضَرْبَةً لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةً لِلْيَدَيْنِ وَيَمْسَحُهُمَا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تیمّم کرتے تھے دونوں کہنیوں تک۔
پوچھا گیا امام مالک رحمہ سے: تیمّم کی ترکیب اور کہاں تک کرنا چاہیے؟ تو کہا کہ ایک دفعہ ہاتھ مار کر منہ پر مسح کرے، اور دوسری دفعہ ہاتھ مار کر ہاتھوں کا مسح کرے کہنیوں تک۔
پوچھا گیا امام مالک رحمہ سے: تیمّم کی ترکیب اور کہاں تک کرنا چاہیے؟ تو کہا کہ ایک دفعہ ہاتھ مار کر منہ پر مسح کرے، اور دوسری دفعہ ہاتھ مار کر ہاتھوں کا مسح کرے کہنیوں تک۔