حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " لَا بَأْسَ أَنْ يُغْتَسَلَ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ ، مَا لَمْ تَكُنْ حَائِضًا أَوْ جُنُبًا "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع بیا ن کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: کچھ مضائقہ نہیں کہ مرد غسل کرے اس پانی سے جو عورت کی طہارت سے بچا ہو، جبکہ وہ عورت حیض اور جنابت سے نہ ہو۔
حدیث نمبر: 117
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَعْرَقُ فِي الثَّوْبِ وَهُوَ جُنُبٌ ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پسینہ آتا کپڑے میں اور وہ جنب ہوتے تھے، پھر اسی کپڑے سے نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 118
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَغْسِلُ جَوَارِيهِ رِجْلَيْهِ وَيُعْطِينَهُ الْخُمْرَةَ وَهُنَّ حُيَّضٌ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی لونڈیاں ان کے پاؤں دھوتی تھیں اور اُن کو جائے نماز اٹھا کر دیتی تھیں حالت حیض میں۔
حدیث نمبر: 118B1
وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ لَهُ نِسْوَةٌ وَجَوَارِي هَلْ يَطَؤُهُنَّ جَمِيعًا قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِأَنْ يُصِيبَ الرَّجُلُ جَارِيَتَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ، فَأَمَّا النِّسَاءُ الْحَرَائِرُ فَيُكْرَهُ أَنْ يُصِيبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ الْحُرَّةَ فِي يَوْمِ الْأُخْرَى ، فَأَمَّا أَنْ يُصِيبَ الْجَارِيَةَ ثُمَّ يُصِيبَ الْأُخْرَى وَهُوَ جُنُبٌ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
پوچھا گیا امام مالک رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں جس کے پاس بیبیاں اور لونڈیاں ہیں کہ سب سے وطی کرے غسل سے پیشتر؟ تو جواب دیا کہ اگر جماع کرے اپنی لونڈی سے قبل غسل کے تو کچھ حرج نہیں ہے، اور آزاد بیبیوں سے ایک کے بارے میں دوسرے سے جماع کرنا مکروہ ہے۔ ہاں یہ بات کہ ایک لونڈی سے جماع کرے، پھر غسل سے پیشتر دوسری لونڈی سے جماع کرے، اس میں کچھ قباحت نہیں ہے۔ اور پوچھے گئے ۔
حدیث نمبر: 118B2
وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ جُنُبٍ وُضِعَ لَهُ مَاءٌ يَغْتَسِلُ بِهِ فَسَهَا ، فَأَدْخَلَ أُصْبُعَهُ فِيهِ لِيَعْرِفَ حَرَّ الْمَاءِ مِنْ بَرْدِهِ ، قَالَ مَالِك: " إِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَ أُصْبُعَهُ أَذًى فَلَا أَرَى ذَلِكَ يُنَجِّسُ عَلَيْهِ الْمَاءَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ ایک جنب سے، اس نے رکھا پانی غسل کو پھر بھول کر اس نے انگلی ڈال دی پانی کی سردی یا گرمی دیکھنے کو؟ تو جواب دیا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ اگر اس کی انگلی میں نجاست نہ لگی ہو تو پانی نجس نہ ہوگا۔