حدیث نمبر: 86
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ وَرَجُلٌ يَسْأَلُهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأَجِدُ الْبَلَلَ وَأَنَا أُصَلِّي أَفَأَنْصَرِفُ ، فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ : " لَوْ سَالَ عَلَى فَخِذِي مَا انْصَرَفْتُ حَتَّى أَقْضِيَ صَلَاتِي "
علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ سعید بن مسیّب سے پوچھا ایک شخص نے، اور میں سنتا تھا کہ مجھے تری معلوم ہوتی ہے نماز میں، کیا توڑوں میں نماز کو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ تمام کروں نماز کو۔
حدیث نمبر: 87
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ زُيَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ الْبَلَلِ أَجِدُهُ ، فَقَالَ : " انْضَحْ مَا تَحْتَ ثَوْبِكَ بِالْمَاءِ ، وَالْهُ عَنْهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت صلت بن زبید سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا حضرت سلیمان بن یسار سے کہ تری پاتا ہوں میںز کہا: پانی چھڑک لے اپنے تہبند یا ازار پر اور غافل ہو جا اس سے، یعنی اس کا خیال مت کر اور بھلا دے اس کو۔