کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: سر اور کانوں کے مسح کا بیان
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يَأْخُذُ الْمَاءَ بِأُصْبُعَيْهِ لِأُذُنَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 66
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 66، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 310، 311، الأوسط لابن المنذر برقم: 397، شركة الحروف نمبر: 61، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 37» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے ، امام بیہقی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 67
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ ، فَقَالَ : " لَا ، حَتَّى يُمْسَحَ الشَّعْرُ بِالْمَاءِ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما پوچھے گئے عمامہ پر مسح کرنے سے، تو کہا کہ نہ کرے یہاں تک کہ مسح کرے بال کا پانی سے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 67
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، و أخرجه والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 310، 311، والترمذي فى «جامعه» برقم: 102، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 236، شركة الحروف نمبر: 61، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 38» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔
حدیث نمبر: 68
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ " كَانَ يَنْزِعُ الْعِمَامَةَ وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ بِالْمَاءِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر عمامہ سر سے اتار کر سر پر مسح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 68
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 287، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 744، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 237، شركة الحروف نمبر: 62، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 39» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 69
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ " رَأَى صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ تَنْزِعُ خِمَارَهَا وَتَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا بِالْمَاءِ " . وَنَافِعٌ يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ . ¤ وَسُئِلَ مَالِك ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ وَالْخِمَارِ فَقَالَ : لَا يَنْبَغِي أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى عِمَامَةٍ وَلَا خِمَارٍ ، وَلْيَمْسَحَا عَلَى رُءُوسِهِمَا . ¤ وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَنَسِيَ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى جَفَّ وَضُوءُهُ ، قَالَ : أَرَى أَنْ يَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا صفیہ کو جو بیوی تھیں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی۔ اُتارتی تھیں اس کپڑے کو جس سے سر ڈھانپتے ہیں اور مسح کرتی تھیں اپنے سر پر پانی سے۔ اور نافع اس وقت نا بالغ تھے۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ مسح کے متعلق اوپر عمامہ کے یا سر بندھن کے، تو کہا: مرد کو عمامہ پر اور عورت کو سر بندھن پر مسح درست نہیں ہے، بلکہ مسح کرنا سر پر لازم ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جس نے وضو کیا اور سر کا مسح بھول گیا، یہاں تک کہ اعضائے وضو خشک ہو گئے۔ تو جواب دیا: مسح کرے اپنے سر پر اور جو نماز پڑھ لی ہو اس کا اعادہ کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 69
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 286، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 51، شركة الحروف نمبر: 63، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 40» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔