کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جن امور سے وضو لازم نہیں آتا ان کا بیان
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت ابراہیم بن عبدالرحمٰن کی ام ولد نے پوچھا اُم المؤمنین سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہ میرا دامن نیچا اور لمبا رہتا ہے، اور ناپاک جگہ میں چلنے کا اتفاق ہوتا ہے، تو کہا سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”پاک کرتا ہے اس کو جو بعد اس کے ہے۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 44
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 383، والترمذي فى «جامعه» برقم: 143، والدارمي فى «مسنده» برقم: 769، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 531، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 4168، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27131، 27328، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6925، 6981، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 620، والطبراني فى «الكبير» برقم: 845، 846، شركة الحروف نمبر: 41، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 16» سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح لغیرہ کہا ہے، امام منذری رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام ابن العربی رحمہ اللہ اور امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے ، علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔ [جلباب المرأة المسلمة: ص 81]
حدیث نمبر: 45
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، " أَنَّهُ رَأَى رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقْلِسُ مِرَارًا ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يَنْصَرِفُ وَلَا يَتَوَضَّأُ حَتَّى يُصَلِّيَ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ قَلَسَ طَعَامًا ، هَلْ عَلَيْهِ وُضُوءٌ ؟ فَقَالَ : لَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ وَلْيَتَمَضْمَضْ مِنْ ذَلِكَ وَلْيَغْسِلْ فَاهُ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کو دیکھا، کئی مرتبہ انہوں نے قے کی پانی کی اور وہ مسجد میں تھے، پھر وضو نہ کیا اور نماز پڑھ لی۔
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جس نے ادکا کھانے کو کیا اس پر وضو ہے؟ کہا: اس پر وضو نہیں ہے، بلکہ کلی کر ڈالے اور منہ دھو لے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 45
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 45، انفرد به المصنف من هذا الطريق، شركة الحروف نمبر: 42، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 17» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔
حدیث نمبر: 46
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " حَنَّطَ ابْنًا لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَحَمَلَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك ، هَلْ فِي الْقَيْءِ وُضُوءٌ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ لِيَتَمَضْمَضْ مِنْ ذَلِكَ وَلْيَغْسِلْ فَاهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خوشبو لگائی سیّدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے بچے کو جو میت تھا، اور اٹھایا اس کو، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ قے میں وضو ہے یا نہیں؟ کہا: وضو نہیں ہے مگر کلی کرے اور منہ دھو ڈالے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 46
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1491، 6809، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 6115، 6116، شركة الحروف نمبر: 43، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 18» شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے ، امام ابن حزم رحمہ اللہ ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ، امام ابن القطان رحمہ اللہ اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [احكام الجنائز للألباني: ص 53]