حدیث نمبر: 40
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ بَنِي الْأَزْرَقِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو کہا اس نے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم سوار ہوتے ہیں سمندر میں اور اپنے ساتھ پانی تھوڑا رکھتے ہیں، اگر اسی سے وضو کریں تو پیاسے رہیں، کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کریں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”پاک ہے پانی اس کا، حلال ہے مردہ اس کا۔“
حدیث نمبر: 41
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدَةَ عُبَيْدِ بْنِ فَرْوَةَ ، عَنْ خَالَتِهَا كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا ، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ ، فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ ، قَالَتْ كَبْشَةُ : فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : لَا بَأْسَ بِهِ إِلَّا أَنْ يُرَى عَلَى فَمِهَا نَجَاسَةٌ
علامہ وحید الزماں
حضرت کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ گئے ان کے پاس تو رکھا کبشہ نے ایک برتن میں پانی ان کے وضو کے لیے، پس آئی بلی اس میں سے پینے کو تو جھکا دیا برتن کو سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے یہاں تک کہ پی لیا بلی نے پانی۔ کہا کبشہ نے: دیکھ لیا سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھتی ہوں، تو پوچھا سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے: کیا تعجب کرتی ہو اے بھتیجی میری! میں نے کہا: ہاں۔ تو کہا سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”بلی ناپاک نہیں ہے، وہ رات دن پھرنے والوں میں سے ہے تم پر۔“
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کچھ حرج نہیں بلی کے جھوٹے میں مگر جب اس کے منہ پر پلیدی معلوم ہو۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کچھ حرج نہیں بلی کے جھوٹے میں مگر جب اس کے منہ پر پلیدی معلوم ہو۔
حدیث نمبر: 42
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرَدُوا حَوْضًا ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ : يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ ، هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ ، لَا تُخْبِرْنَا ، فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ ، وَتَرِدُ عَلَيْنَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نکلے چند سواروں میں، ان میں سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راہ میں ایک حوض ملا تو سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں؟ تو کہا سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے: اے حوض والے! مت بتا ہم کو اس لیے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں۔
حدیث نمبر: 43
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " إِنْ كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَوَضَّئُونَ جَمِيعًا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ مرد اور عورتیں وضو کرتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اکٹھا۔