حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی عصر کی نماز قضا ہو گئی تو گویا لٹ گیا اس کا گھر بار۔“
حدیث نمبر: 21
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَلَقِيَ رَجُلًا لَمْ يَشْهَدِ الْعَصْرَ ، فَقَالَ عُمَرُ : " مَا حَبَسَكَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ ؟ " فَذَكَرَ لَهُ الرَّجُلُ عُذْرًا ، فَقَالَ عُمَرُ : " طَفَّفْتَ " ¤ قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : وَيُقَالُ لِكُلِّ شَيْءٍ وَفَاءٌ وَتَطْفِيفٌ
علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز پڑھ کر لوٹے، ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو عصر کی نماز میں نہ تھا، آپ نے پوچھا: کس وجہ سے تم رک گئے جماعت میں آنے سے؟ اس نے کچھ عذر بیان کیا، تب فرمایا آپ نے: «طَفَّفْتَ» ۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: «طَفَّفْتَ» «تَطْفِيْفٔ» سے ہے۔ عرب لوگ کہا کرتے ہیں: «لِكُلِّ شَيْءٍ وَفَاءٌ وَ تَطْفِيْفٌ» ۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: «طَفَّفْتَ» «تَطْفِيْفٔ» سے ہے۔ عرب لوگ کہا کرتے ہیں: «لِكُلِّ شَيْءٍ وَفَاءٌ وَ تَطْفِيْفٌ» ۔
حدیث نمبر: 22
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمُصَلِّيَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ وَمَا فَاتَهُ وَقْتُهَا ، وَلَمَا فَاتَهُ مِنْ وَقْتِهَا أَعْظَمُ ، أَوْ أَفْضَلُ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ " .
علامہ وحید الزماں
حضرت یحیی بن سعید رحمہ اللہ کہتے تھے کہ نمازی کبھی نماز پڑھتا ہے اور وقت جاتا نہیں رہتا، لیکن جس قدر وقت گزر گیا وہ اچھا اور بہتر تھا اس کے گھر بار سے۔
حدیث نمبر: 22B1
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: مَنْ أَدْرَكَ الْوَقْتَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ سَاهِيًا أَوْ نَاسِيًا حَتَّى قَدِمَ عَلَى أَهْلِهِ ، أَنَّهُ إِنْ كَانَ قَدِمَ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ فِي الْوَقْتِ فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُقِيمِ ، وَإِنْ كَانَ قَدْ قَدِمَ وَقَدْ ذَهَبَ الْوَقْتُ فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا يَقْضِي مِثْلَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ .
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کوئی شخص سفر میں ہو اور نماز کا وقت آ جائے، پھر وہ شخص بھول بھٹک کر نماز میں دیر کرے یہاں تک کہ اپنے گھر بار میں آ جائے، اور وقت باقی ہو تو وہ نماز کو پورا پڑھے مثل مقیم کے، قصر نہ کرے، اور جو وقت گزر گیا ہو تو قصر سے پڑھے، کیونکہ اب تو وہ نماز کو قضا پڑھے گا اور قضا ویسی ہی پڑھی جائے گی جیسے واجب ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 22B2
قَالَ مَالِك: وَهَذَا الْأَمْرُ هُوَ الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ النَّاسَ ، وَأَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا .
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہم نے اپنے شہر والوں کو اور اپنے شہر کے عالموں کو اسی حکم پر پایا۔
حدیث نمبر: 22B3
وَقَالَ مَالِك: الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ الَّتِي فِي الْمَغْرِبِ ، فَإِذَا ذَهَبَتِ الْحُمْرَةُ فَقَدْ وَجَبَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ ، وَخَرَجْتَ مِنْ وَقْتِ الْمَغْرِبِ
علامہ وحید الزماں
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: شفق سرخی کو کہتے ہیں جو پچھّم کی جانب ہوتی ہے، تو جب سرخی جاتی رہی نمازِ عشاء کا وقت آ جائے گا اور مغرب کا وقت گزر جائے گا۔
حدیث نمبر: 23
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَذَهَبَ عَقْلُهُ فَلَمْ يَقْضِ الصَّلَاةَ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ الْوَقْتَ قَدْ ذَهَبَ فَأَمَّا مَنْ أَفَاقَ فِي الْوَقْتِ فَإِنَّهُ يُصَلِّي
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بے ہوش ہوگئے، ان کی عقل جاتی رہی، پھر انہوں نے نماز کی قضا نہ پڑھی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہماری دانست میں وقت نماز کا جاتا رہا ہو گا، کیونکہ جو شخص ہوش میں آجائے اور وقت باقی ہو تو وہ نماز پڑھ لے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہماری دانست میں وقت نماز کا جاتا رہا ہو گا، کیونکہ جو شخص ہوش میں آجائے اور وقت باقی ہو تو وہ نماز پڑھ لے۔