حدیث نمبر: 1333
1333 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَأَيْتُنِي الْبَارِحَةَ كَأَنَّ رَجُلًا أَلْقَمَنِي كُتْلَةَ تَمْرٍ، فَعَجَمْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً، فَآذَتْنِي فَلَفِظْتُهَا، ثُمَّ أَلْقَمَنِي كُتْلَةً، فَمِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ أُخْرَي، فَمِثْلُ ذَلِكَ» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَعْبُرْهَا، قَالَ: «اعْبُرْهَا» ، قَالَ: هُوَ الْجَيْشُ الَّذِي بَعَثْتَ يُسْلِمُهُمُ اللَّهُ، وَيَغْنِمُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ آخَرَ، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ آخَرَ، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ يَا أَبَا بَكْرٍ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے میرے منہ میں کھجور کا ٹکڑا ڈالا ہے میں نے اسے چبایا، تو مجھے اس میں گٹھلی بھی ملی جس نے مجھے تکلیف دی، تو میں نے اسے پھینک دیا، پھر اس نے میرے منہ میں ایک اور کھجور ڈالی، تو پھر ایسا ہی ہوا پھر اس نے ایک اور ڈالی پھر ایسا ہی ہوا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ!مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی تعبیر بیان کرو“، تو انہوں نے عرض کی: اس سے مراد وہ لشکر ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے سلامتی بھی عطا کی اور مال غنیمت بھی عطا کیا تھا، پھر لوگوں کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی، تو اس شخص نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کا واسطہ دیا، تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، پھر ان کی ملاقات ایک اور شخص سے ہوئی، تو اس شخص نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کا واسطہ دیا، تو ان لوگوں نے اسے بھی چھوڑ دیا، پھر ان کی ملاقات ایک اور شخص سے ہوئی، تو اس نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کا واسطہ دیا، تو انہوں نے اسے بھی چھوڑ دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! فرشتے نے اسی طرح بیان کیا ہے۔“