حدیث نمبر: 1251
1251 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ عَبْدٌ لحَيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُمْ بَنُو بَيَاضَةَ، يُسَمَّي أَبَا طَيْبَةَ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا، أَوْ صَاعَيْنِ، أَوْ مُدًّا، أَوْ مُدَّيْنِ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ فَخَفَّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ» يَعْنِي خَرَاجَهُ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے انصار کے کسی قبیلے کے ایک غلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے تھے اس قبیلے کا نام ”بنو بیاضہ“ تھا اور اس شخص کا نام ابوطیبہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع یا دو صاع، ایک مد یا دو مد (معاوضے کے طور پر) عطا کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آقاؤں سے بات چیت کی، تو انہوں نے اس کے ذمے لازم ادائیگی کو کم کر دیا، یعنی اس کے ذمے خراج کو کم کر دیا۔