مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: حدیث نمبر 1217
حدیث نمبر: 1217
1217 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فِيهِ: «وَلَا تَنَاجَشُوا؟» ، قَالَ: لَا
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آپس میں قطع رحمی نہ کرو، آپس میں ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندے اور بھائی، بھائی بن کر رہو، کسی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لا تعلق رہے۔“ سفیان نامی راوی سے دریافت کیا گیا: اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ”آپس میں مصنوعی بولی نہ لگاؤ“، تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1217
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث تخریج «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6065، 6076، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2559، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5660، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4910، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1935، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14891، 21123، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12256، 12888، 13253، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3261، 3549، 3550، 3551»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔