حدیث نمبر: 1185
1185 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَضَي اللَّهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سَلْسِلَةٌ عَلَي صَفْوَانَ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا الَّذِي قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُوا السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُوا السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ، قَالَ: فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ، فَيُلْقِيهَا إِلَي مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَي مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا عَلَي لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكُهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيْكَذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذِبَةٍ، فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، كَذَا وَكَذَا لِلْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ، فَيَصْدُقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ سناتا ہے، تو فرشتے اس کے حکم کے سامنے سر کو جھکاتے ہوئے اپنے پر مارتے ہیں یوں جیسے زنجیر پتھر پر ماری جاتی ہے جب ان کے دلوں سے خوف کم ہوتا ہے، تو وہ دریافت کرتے ہیں: ”تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے“، تو دوسرے جواب دیتے ہیں: ”جو اس نے فرمایا ہے وہ حق ہے، بلند و برتر ہے“، پھر چوری چھپے سننے والے اس میں سے کوئی بات سن لیتے ہیں اور چوری چھپے سننے والے اس طرح ہوتے ہیں جس طرح وہ ایک دوسرے کے اوپر نیچے۔“ سفیان نے کر کے دکھایا کہ وہ ایسے ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ شخص ان میں سے کوئی بات سن لیتا ہے، جسے وہ اپنے سے نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے پھر وہ اپنے سے نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے پھر وہ کسی جادوگر یا کاہن کی زبانی بات بیان کرتا ہے بعض اوقات شہاب ثاقب اس تک پہنچ جاتا ہے اس سے پہلے کہ وہ بات اپنے سے نیچے والے تک منتقل کرے اور بعض اوقات شہاب ثاقب کے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ بات اگلے شخص تک منتقل کر دیتا ہے وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ بھی ملا دیتا ہے، تو یہ کہا جاتا ہے اس شخص نے فلاں دن جو ہم سے کہا تھا: کیا ایسا نہیں ہوا؟ اس نے فلاں، فلاں بات کہی تھی، یہ وہی بات ہوتی ہے، جو اس نے آسمان سے سنی ہوتی ہے، تو تصدیق اس بات کی کی جاتی ہے، جو آسمان سے کی گئی تھی۔“