حدیث نمبر: 1177
1177 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: اخْتَلَفَ الرِّجَالُ فِي الرِّجَالِ، وَالنِّسَاءِ، أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ؟ فَأَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَي صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَي أَضْوَأِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: دُرِّئٍ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَي مُخُّ سَاقَيْهُمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ عَزَبٌ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں کے درمیان اس بارے میں بحث ہو گئی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا خواتین۔ وہ لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میری امت کا جو پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے پھر اس کے بعد والے لوگ اس طرح ہوں گے جیسے آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارہ ہوتا ہے۔“ یہاں سفیان نامی راوی نے ایک روایت کے ایک لفظ کو نقل کرنے میں شک کا اظہار کیا ہے۔ ”ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی، جن کی پنڈلیوں کے گوشت کے اندر سے ہڈی کا مغز بھی نظر آئے گا، اور جنت میں مجرد زندگی نہیں ہوگی۔“