مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: وضع حمل سے عدت کا تمام ہونا۔
حدیث نمبر: 1484
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَ حَرْمَلَةُ : حدثنا ، وقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ ، فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا ، وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ ؟ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، يُخْبِرُهُ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ فِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا ، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا ، تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، فقَالَ لَهَا : مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تَرْجِينَ النِّكَاحَ ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ، قَالَت سُبَيْعَةُ : فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، " فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي ، وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ ، وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنْ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ .
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ کے پاس جا کر، ان سے پوچھو کہ تمہارا واقعہ کیا ہے اور جب تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا جواب دیا تھا۔ تو عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اسے بتایا کہ وہ سعد بن خولہ جو بنو عامر بن لؤی کے فرد تھے، کی بیوی تھی۔ اور وہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے۔ تو وہ حجۃ الوداع کے موقع پر، جبکہ وہ حاملہ تھی، وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے تھوڑے عرصہ کے بعد ہی اس نے بچا جنا، اور جب وہ نفاس سے نکلی، تو اس نے منگنی کا پیغام دینے والوں کی خاطر بناؤ سنگھار کیا، تو اس کے پاس بنو عبدالدار کے فرد ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ تعالی عنہ آئے، اور اس سے پوچھا، کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھ رہا ہوں؟ شاید تم نکاح کرنا چاہتی ہو، یقینا اللہ کی قسم! تو اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی جب تک تم پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں، سبیعہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں، جب اس نے مجھے یہ بات کہی تو میں نے شام کو اپنے کپڑے اوڑھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا، کہ جب میں نے وضع حمل کیا تھا، اس وقت سے شادی کے قابل ہو چکی ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، کہ اگر میں چاہوں تو شادی کر سکتی ہوں۔ ابن شہاب کہتے ہیں، میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وضع حمل کے بعد عورت شادی کر لے۔ اگرچہ ابھی ولادت کا خون جاری ہو۔ ہاں اس کا خاوند جب تک وہ خون سے پاک نہ ہو جائے، اس سے تعلقات قائم نہ کرے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطلاق / حدیث: 1484
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1485
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْزِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ : أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ اجْتَمَعَا عَنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهُمَا يَذْكُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عِدَّتُهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : قَدْ حَلَّتْ ، فَجَعَلَا يَتَنَازَعَانِ ذَلِكَ ، قَالَ : فقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي ، يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، يَسْأَلُهَا : عَنْ ذَلِكَ ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ : أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَت : إِنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، وَإِنَّهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ " ،
عبدالوہاب نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، (انہوں نے کہا:) مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اکٹھے ہوئے اور وہ دونوں اس عورت کا ذکر کرنے لگے جس کا اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد نفاس شروع ہو جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کی عدت دو وقتوں میں سے آخر والا ہے۔ ابوسلمہ نے کہا: وہ حلال ہو چکی ہے۔ وہ دونوں اس معاملے میں بحث کرنے لگے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے، یعنی ابوسلمہ، کے ساتھ ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ وہ (واپس) ان کے پاس آیا تو انہیں بتایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد بچہ جنا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے انہیں نکاح کرنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطلاق / حدیث: 1485
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1485
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ . ح وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ اللَّيْثَ ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، وَلَمْ يُسَمِّ كُرَيْبًا .
لیث اور یزید بن ہارون دونوں نے اسی سند کے ساتھ یحییٰ بن سعید سے روایت کی، البتہ لیث نے اپنی حدیث میں کہا: انہوں نے (کسی کو) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ انہوں نے کریب کا نام نہیں لیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطلاق / حدیث: 1485
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔