کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: تین طلاقوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1472
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَ إِسْحَاقَ : أَخْبَرَنا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ : وَاحِدَةً ، فقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ " .
معمر نے ہمیں ابن طاوس سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (طاوس بن کیسان) سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے (ابتدائی) دو سالوں تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے تحمل اور سوچ بچار (ضروری) تھا۔ اگر ہم اس (عجلت) کو ان پر نافذ کر دیں (تو شاید وہ تحمل سے کام لینا شروع کر دیں) اس کے بعد انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔ (اکٹھی تین طلاقوں کو تین شمار کرنے لگے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطلاق / حدیث: 1472
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1472
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحدثنا ابْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " أَتَعْلَمُ أَنَّمَا كَانَتِ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ " .
طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ابو صہباء نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا، کیا آپ کو علم ہے کہ تین طلاقوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں اور تین سال تک عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں، ایک ہی قرار دیا جاتا تھا، تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا، ہاں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطلاق / حدیث: 1472
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1472
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ : أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ " أَلَمْ يَكُنِ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً ، فقَالَ : قَدْ كَانَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ ، فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ " .
طاؤس سے روایت ہے کہ ابو صہباء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا، اپنی نئی چیزوں یا انوکھی چیزوں میں سے کوئی چیز بتائیں، کیا تین طلاقیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ایک شمار نہیں ہوتی تھیں تو انہوں نے فرمایا: ایسا ہی تھا۔ تو جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور آیا تو لوگوں نے مسلسل طلاقیں دینا شروع کر دیں تو انہوں نے انہیں ان پر لاگو کر دیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطلاق / حدیث: 1472
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»