کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: حدیث نمبر 1095
حدیث نمبر: 1095
1095 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ أَوْ جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِّيهِمَا إِلَي تَرَاقِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ، أَوْ مَرَّتْ حَتَّي تَجِنَّ بَنَانَهُ، وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ، وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلَقَةٍ مَوْضِعَهَا، حَتَّي يَأْخُذَ بِتَرْقُوتِهِ، أَوْ قَالَ: بِرَقَبَتِهِ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَشْهَدُ لَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ إِلَي حَلَقَةٍ فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَّسِعُ، مَرَّتَيْنِ،
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”خرچ کرنے والے اور بخیل شخص کی مثال دو ایسے آدمیوں کی طرح ہے جنہوں نے لوہے کی بنی ہوئی دو زرہیں پہنی ہوئی ہوں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دو جبے پہنے ہوئے ہوں۔ جو ان کے سینے سے لے کر گردن تک ہوں۔ جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کی گرہ کشادہ ہو جاتی ہے (یعنی نیچے ہو جاتی ہے)۔ یہاں تک کہ اس کے پاؤں کے پوروں کو چھپا لیتی ہے اور اس کے قدموں کے نشان کو ڈھانپ لیتی ہے۔ (یعنی زمین پر گر جاتی ہے) اور جب کنجوس شخص خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کی زرہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے اس کا ہر حلقہ جڑ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس شخص کی گردن کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ گواہی دے کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دست مبارک کو اس طرح اشارہ کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر سفیان نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا کہ وہ شخص اسے کھولنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کھلتی نہیں ہے۔ ایسا انہوں نے دو مرتبہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 1095
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1402، 1403، 1443، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 987، 1021، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2252، 2253، 2254، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3253، 3254، 3258، 3261، 3313، 3332، 4671، 4672، 4675، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1439، 1470، 1471، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2441، 2447، 2481، 2546، 2547، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1658، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1636، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1786، 2788، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7323، 7325، 7380، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5873، 7453، 7601، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2640، 2641، 6014، 6319»