کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: باکرہ سے نکاح مستحب ہونے کابیان۔
حدیث نمبر: 1466
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَزَوَّجْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " ، قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى وَلِعَابِهَا ؟ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، فقَالَ : قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ : فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا ، وَتُلَاعِبُكَ .
شعبہ نے ہمیں محارب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: ”کنواری سے یا دوہاجو (ثیبہ) سے؟“ میں نے عرض کی: دوہاجو سے۔ آپ نے فرمایا: ”تم کنواریوں اور ان کی ملاعبت (باہم کھیل کود) سے (دور) کہاں رہ گئے؟“ شعبہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنی تھی اور انہوں نے کہا تھا: ”تم نے کنواری سے (شادی) کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1466
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1466
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ ، أَوَ قَالَ : سَبْعَ ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا ، فقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَابِرُ ، تَزَوَّجْتَ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ، أَوَ قَالَ : تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ " ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيءَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ ، قَالَ : " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ " ، أَوَ قَالَ : لِي خَيْرًا ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ : تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ،
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوربیع زہرانی نے ہمیں حدیث بیان کی، یحییٰ نے کہا: حماد بن زید نے ہمیں عمرو بن دینار سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو بیٹیاں۔۔ یا کہا: سات بیٹیاں۔۔ چھوڑیں تو میں نے ایک ثیبہ (دوہاجو) عورت سے نکاح کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”جابر! نکاح کر لیا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: ”کنواری ہے یا دوہاجو؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! دوہاجو ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کنواری کیوں نہیں، تم اس سے دل لگی کرتے، وہ تم سے دل لگی کرتی۔۔ یا فرمایا: تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی۔۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور پیچھے نو۔۔ یا سات۔۔ بیٹیاں چھوڑیں، تو میں نے اچھا نہ سمجھا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت لاؤں جو ان کی نگہداشت کرے اور ان کی اصلاح کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہیں برکت دے!“ یا آپ نے میرے لیے خیر اور بھلائی کی دعا فرمائی۔ اور ابوربیع کی روایت میں ہے: ”تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1466
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1466
وحدثناه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ : امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ ، قَالَ : أَصَبْتَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: ”اے جابر! تو نے نکاح کر لیا ہے؟‘‘ لیکن روایت صرف یہاں تک بیان کی ہے۔ ایسی عورت لاؤں جو ان کی دیکھ بھال کرے اور انہیں کنگھی کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کام کیا۔‘‘ بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1466
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1466
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنْزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، فقَالَ : " مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، فقَالَ : " أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا ، وَتُلَاعِبُكَ " ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ ، فقَالَ : " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً ، كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ " ، قَالَ : وَقَالَ : إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ .
شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے۔ جب ہم واپس ہوئے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تھوڑا سا تیز کیا، میرے ساتھ پیچھے سے ایک سوار آ کر ملا انہوں نے لوہے کی نوک والی چھڑی سے جو ان کے ساتھ تھی، میرے اونٹ کو کچوکا لگایا، تو وہ اتنا تیز چلنے لگا جتنا آپ نے کسی بہترین اونٹ کو (تیز چلتے ہوئے) دیکھا، آپ نے پوچھا: ”جابر! تمہیں کس چیز نے جلدی میں ڈال رکھا ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپ نے پوچھا: ”باکرہ سے شادی کی ہے یا ثیبہ (دوہاجو) سے؟“ انہوں نے عرض کی: ثیبہ سے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے کسی (کنواری) لڑکی سے کیوں نہ کی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی؟“ کہا: جب ہم مدینہ آئے، (اس میں) داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ، ہم رات۔۔ یعنی عشاء۔۔ کے وقت داخل ہوں، تاکہ پراگندہ بالوں والی بال سنوار لے اور جس جس کا شوہر غائب رہا، وہ بال (وغیرہ) صاف کر لے۔“ اور فرمایا: ”جب گھر پہنچنا تو عقل و تحمل سے کام لینا (حالت حیض میں جماع نہ کرنا)۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1466
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1467
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ لِي : " يَا جَابِرُ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا شَأْنُكَ " ، قُلْتُ : أَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ ، فَنَزَلَ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " ارْكَبْ " ، فَرَكِبْتُ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " أَتَزَوَّجْتَ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فقَالَ : " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " ، فَقُلْتُ : بَلْ ثَيِّبٌ ، قَالَ : " فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ " ، قُلْتُ : إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَبِيعُ جَمَلَكَ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فقَالَ : " الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، قَالَ : فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً ، فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ ، فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ ، قَالَ : " ادْعُ لِي جَابِرًا " ، فَدُعِيتُ فَقُلْتُ : الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ ، فقَالَ : " خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ " .
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلا تھا، میرے اونٹ نے میری رفتار سست کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: ”جابر!“ میں نے عرض کی: جی۔ آپ نے پوچھا: ”کیا معاملہ ہے؟“ میں نے عرض کی: میرے لیے میرا اونٹ سست پڑ چکا ہے اور تھک گیا ہے، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ آپ (اپنی سواری سے) اترے اور اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے اسے کچوکا لگایا، پھر فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ میں سوار ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی اونٹنی) سے (آگے بڑھنے سے) روک رہا ہوں۔ پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے شادی کر لی؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: ”کنواری سے یا دوہاجو سے؟“ میں نے عرض کی: دوہاجو ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(کنواری) لڑکی سے کیوں نہ کی، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے، وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی۔“ میں نے عرض کی: میری (چھوٹی) بہنیں ہیں۔ میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کی ڈھارس بندھائے، ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگہداشت کرے۔ آپ نے فرمایا: ”تم (گھر) پہنچنے والے ہو، جب پہنچ جاؤ تو احتیاط اور عقل مندی سے کام لینا۔“ پھر پوچھا: ”کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ آپ نے وہ (اونٹ) مجھ سے ایک اوقیہ (چاندی کی قیمت) میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے اور میں صبح کے وقت پہنچا، مسجد میں آیا تو آپ کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابھی پہنچے ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنا اونٹ چھوڑو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کرو۔“ میں مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر (آپ کے پاس) واپس آیا تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ (چاندی) تول دیں، چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے وزن کیا، اور ترازو کو جھکایا (اوقیہ سے زیادہ تولا)۔ کہا: اس کے بعد میں چل پڑا، جب میں نے پیٹھ پھیری تو آپ نے فرمایا: ”جابر کو میرے پاس بلاؤ۔“ مجھے بلایا گیا۔ میں نے (دل میں) کہا: اب آپ میرا اونٹ (بھی) مجھے واپس کر دیں گے۔ اور مجھے کوئی چیز اس سے زیادہ ناپسند نہ تھی (کہ میں قیمت وصول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اونٹ بھی واپس لے لوں)۔ آپ نے فرمایا: ”اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1467
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1467
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حدثنا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ ، قَالَ : فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ قَالَ : نَخَسَهُ أُرَاهُ ، قَالَ بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعَنِي حَتَّى إِنِّي لِأَكُفُّهُ ، قَالَ : فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَبِيعَنْيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " أَتَبِيعَنْيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ وَقَالَ لِي : " أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا " ، قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلَّا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا ، وَتُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا " ، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ : فَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ : افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں چل رہے تھے اور میں پانی پلانے والے اونٹ پر سوار تھا۔ جو سب لوگوں کے پیچھے تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی چیز سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی مارا یا کچوکا لگایا تو وہ اس کے بعد سب لوگوں سے آ گے نکلنے لگا۔ وہ میرے روکنے پر مجھ سے کشمکش کرتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تم مجھے یہ اتنی اتنی قیمت پر دیتے ہو، اور اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔‘‘ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! وہ آپ کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مجھے یہ اتنی اتنی قیمت پر بیچتے ہو؟ اللہ تمہیں معاف فرمائے۔‘‘ میں نے عرض کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا اپنے باپ کے بعد تو نے شادی کر لی ہے؟‘‘ میں نے کہا، جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بیوہ سے یا کنواری سے؟‘‘ میں نے عرض کیا، بیوہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کی تم اس سے خوش طبعی کرتے وہ تم میں سے خوش لگی کرتی، وہ تم سے دل لگی کرتی تم اس سے دل لگی کرتے؟‘‘ ابو نضرہ کہتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ محاورہ اور روزمرہ کا معمول تھا یا تکیہ کلام تھا۔ وہ کہتے یہ یہ کام کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1467
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»