کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: بڑی عمر کی رضاعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1453
حدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ ، وَهُوَ حَلِيفُهُ فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ " ، قَالَت : وَكَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ " ، زَادَ عَمْرٌ وَفِي حَدِيثِهِ : وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں سالم رضی اللہ عنہ کے گھر آنے کی بنا پر (اپنے شوہر) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے میں (تبدیلی) دیکھتی ہوں۔۔ حالانکہ وہ ان کا حلیف بھی ہے۔۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔“ انہوں نے عرض کی: میں اسے کیسے دودھ پلاؤں؟ جبکہ وہ بڑا (آدمی) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ بڑا آدمی ہے۔“ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور وہ (سالم) بدر میں شریک ہوئے تھے۔ اور ابن ابی عمر کی روایت میں ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔“ (آپ کا مقصود یہ تھا کہ کسی برتن میں دودھ نکال کر سالم رضی اللہ عنہ کو پلوا دیں)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1453
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1453
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ فَأَتَتْ تَعْنِي ابْنَةَ سُهَيْلٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ وَعَقَلَ مَا عَقَلُوا ، وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ ، تَحْرُمِي عَلَيْهِ وَيَذْهَبِ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ " ، فَرَجَعَتْ ، فقَالَت : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ ، فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مولیٰ سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ ان کے گھر میں رہائش پذیر تھا، تو ان کی بیوی (سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگی۔ سالم مردوں کی حد بلوغ کو پہنچ گیا ہے اور جن باتوں کو وہ سمجھتے ہیں ان کو سمجھنے لگا ہے، اور وہ ہمارے ہاں آتا ہے اور میں خیال کرتی ہوں، ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دل میں اس سے کراہت محسوس کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو دودھ پلا دے اور اس کے لیے محرم بن جانا اور ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل کی کراہت ختم ہو جائے گی۔‘‘ میں واپس آ گئی اور میں نے اس کو دودھ پلا دیا، اور ابو حذیفہ کے دل سے نفرت نکل گئی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1453
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1453
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ سَالِمًا لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَعَنَا فِي بَيْتِنَا ، وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ ، وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ ، قَالَ : " أَرْضِعِيهِ ، تَحْرُمِي عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَمَكَثْتُ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا لَا أُحَدِّثُ بِهِ وَهِبْتُهُ ، ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَقَدْ حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا مَا حَدَّثْتُهُ بَعْدُ ، قَالَ : فَمَا هُوَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَحَدِّثْهُ عَنِّي أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِيهِ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! سالم، ابو حذیفہ کا حلیف ہمارے ساتھ گھر میں رہتا ہے اور وہ مردوں کی حد بلوغ کو پہنچ گیا ہے اور ان باتوں کو جاننے لگا ہے جن کو مرد جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ پلا کر اس کے لیے حرام ہو جاؤ۔‘‘ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں ایک سال یا اس کے قریب تک خوف اور ہیبت کے مارے میں نے یہ حدیث بیان نہ کی پھر میری ملاقات قاسم سے ہوئی، تو میں نے ان سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک حدیث سنائی تھی جو میں نے ابھی تک کسی کو نہیں سنائی۔ انہوں نے پوچھا، وہ کون سی حدیث ہے؟ تو میں نے انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا، اسے میرے واسطہ سے بیان کرو، بلاشبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ حدیث سنائی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1453
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1453
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَت : قَالَت أُمُّ سَلَمَةَ ، لِعَائِشَةَ : إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ ، قَالَ : فقَالَت عَائِشَةُ : أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ ؟ قَالَت : إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ ، قَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ " .
شعبہ نے حمید بن نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کے پاس (گھر میں) ایک قریب البلوغت لڑکا آتا ہے جسے میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی زندگی) میں نمونہ نہیں ہے؟ انہوں نے (آگے) کہا: ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے عرض کی تھی: اے اللہ کے رسول! سالم میرے سامنے آتا ہے اور (اب) وہ مرد ہے، اور اس وجہ سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں کچھ ناگواری ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو تاکہ وہ تمہارے پاس آ سکے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1453
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1453
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لهارون ، قَالَا : حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ لِعَائِشَةَ : وَاللَّهِ مَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يَرَانِي الْغُلَامُ قَدِ اسْتَغْنَى عَنِ الرَّضَاعَةِ ، فقَالَت : لِمَ قَدْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ ، قَالَت : فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ " ، فقَالَت : إِنَّهُ ذُو لِحْيَةٍ ، فقَالَ : " أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ " ، فقَالَت : وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ .
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ کہتے ہوئے سنا، اللہ کی قسم! میں اس بات کو پسند نہیں کرتی یا میرا نفس گوارا نہیں کرتا کہ مجھے ایسا نوجوان دیکھے جو رضاعت سے مستغنی ہو چکا ہے، تو انہوں نے پوچھا کیوں؟ جبکہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ چکی ہے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی قسم! میں ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر، سالم کی آمد سے ناگواری محسوس کرتی ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔‘‘ اس نے عرض کیا۔ وہ تو داڑھی والا ہے (دودھ کیسے پلاؤں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو، ابو حذیفہ کے چہرے سے کبیدگی ختم ہو جائے گی۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1453
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1454
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ : " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ : وَاللَّهِ مَا نَرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا " .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی تھیں کہ تمام ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ رضاعت کبیر سے کسی کو اپنے پاس آنے دیں، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، اللہ کی قسم! ہمارے خیال میں یہ تو محض ایک رخصت تھی جو اپنے مخصوص طور پر صرف سالم کو دی، اس لیے کوئی انسان ہمارے پاس اس رضاعت سے نہیں آ سکتا اور نہ ہی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1454
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»