حدیث نمبر: 923
923 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا أَجْوَدُ شَيْءٍ وَجَدْنَاهُ عِنْدَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَاتٌ، مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، أَيَّامُ مِنًي ثَلَاثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حج، وقوف عرفات کا نام ہے، جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ تک پہنچ جاتا ہے، وہ حج کو پا لیتا ہے۔ منیٰ کے مخصوص دن تین ہیں۔ جو شخص دو دن گزرنے کے بعد جلدی چلا جائے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص ٹھہرا رہے، تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔“