حدیث نمبر: 1442
وحدثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حدثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ ، وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ " ، قَالَ مُسْلِم : وَأَمَّا خَلَفٌ ، فقَالَ : عَنْ جُذَامَةَ الْأَسَدِيَّةِ ، وَالصَّحِيحُ : مَا قَالَهُ يَحْيَى بِالدَّالِ .
خلف بن ہشام اور یحییٰ بن یحییٰ نے۔۔ الفاظ یحییٰ کے ہیں۔۔ مالک بن انس سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنے) سے منع کر دوں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور یہ ان کے بچوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔“ جہاں تک خلف کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: جذامہ اسدیہ سے روایت ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: صحیح وہ ہے جو یحییٰ نے کہا (کہ یہ لفظ) بغیر نقطے والی دال کے ساتھ (جدامہ) ہے۔
حدیث نمبر: 1442
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عمر ، قَالَا : حدثنا الْمُقْرِئُ ، حدثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ ، قَالَت : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ ، فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ ، وَفَارِسَ ، فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا " ، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ " ، زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ ، عَنِ الْمُقْرِئِ ، وَهِيَ : وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ سورة التكوير آية 8 ،
عبیداللہ بن سعید اور محمد بن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہمیں مقری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن ابی ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابواسود نے عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں لوگوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (دودھ پلانے والی بیوی کے ساتھ مباشرت کرنے) سے منع کر دوں، پھر میں نے روم اور فارس (کے لوگوں کے بارے) میں دیکھا (سوچا، غور کیا) تو وہ اپنے بچوں (کی دودھ پلانے والی ماؤں) سے غیلہ کرتے ہیں اور یہ ان کے بچوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتا۔“ پھر صحابہ نے آپ سے عزل کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مخفی (واد) زندہ درگور کرنا ہے۔“ عبیداللہ نے مقری سے روایت کردہ اپنی حدیث میں اضافہ کیا: اور یہی ہے: ”زندہ درگور کی گئی سے (قیامت کے دن) پوچھا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1442
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ، أَنَّهَا قَالَت : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ فِي الْعَزْلِ وَالْغِيلَةِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : الْغِيَالِ .
یحییٰ بن ایوب نے ہمیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل قرشی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔۔۔ آگے عزل اور غیلہ کے بارے میں سعید بن ابی ایوب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ لیکن انہوں نے (غیلہ کے بجائے) غیال کہا (معنی وہی ہیں)۔
حدیث نمبر: 1443
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ ، حدثنا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ؟ " ، فقَالَ الرَّجُلُ : أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا ، ضَرَّ فَارِسَ ، وَالرُّومَ " ، وقَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ : إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلَا مَا ضَارَ ذَلِكَ فَارِسَ ، وَلَا الرُّومَ .
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے۔۔ الفاظ ابن نمیر کے ہیں۔۔ حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن یزید مقبری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حیوہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عیاش بن عباس نے حدیث سنائی، انہیں ابونضر نے عامر بن سعد سے حدیث بیان کی کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم ایسا کیوں کرتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: میں اس کے بچے یا اس کے بچوں پر (جنہیں وہ دودھ پلا رہی ہوتی ہے) شفقت کرتا ہوں (کہ انہیں کوئی نقصان نہ ہو)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ نقصان دہ ہوتا تو فارس اور روم (کے بچوں) کو نقصان دیتا۔“ زہیر نے اپنی روایت میں کہا: ”اگر یہ (عزل) اس وجہ سے ہے تو (اس کی ضرورت) نہیں، اس (عمل) نے فارس اور روم (کے بچوں) کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔“