حدیث نمبر: 1437
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ ، عَنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " .
مروان بن معاویہ نے عمر بن حمزہ عمری سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالرحمٰن بن سعد نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ (آدمی) اس کا راز افشا کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1437
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ ، عَنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : إِنَّ أَعْظَمَ .
محمد بن عبیداللہ بن نمیر اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے عمر بن حمزہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے (سنگین) معاملات میں سے اس آدمی (کا معاملہ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے، پھر وہ اس (بیوی) کا راز افشا کر دے۔“ ابن نمیر نے کہا: سب سے بڑا (سنگین) معاملہ۔ (یہ بڑی خیانت ہے)۔