حدیث نمبر: 1428
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا بَهْزٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا جَمِيعًا : حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ ، قَالَ : لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ : " فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَاهَا ، وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي ، حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَنَكَصْتُ عَلَى عَقِبِي ، فَقُلْتُ : يَا زَيْنَبُ ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ ، قَالَت : مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّي ، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، قَالَ : فقَالَ : وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ ، وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ ، فَخَرَجَ النَّاسُ ، وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ ، وَيَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ ؟ ، قَالَ : فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا ، أَوْ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَنَزَلَ الْحِجَابُ ، قَالَ : وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ " ، زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ : لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ ، إِلَى قَوْلِهِ : وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ سورة الأحزاب آية 53 .
محمد بن حاتم بن میمون نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بہز نے حدیث سنائی، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث سنائی، ان دونوں (بہز اور ابونضر) نے کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ یہ بہز کی حدیث ہے۔ کہا: جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ان (زینب رضی اللہ عنہا) کے سامنے ان کی میرے ساتھ شادی کا ذکر کرو۔“ کہا: تو حضرت زید رضی اللہ عنہ چلے حتیٰ کہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں، کہا: جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی حتیٰ کہ میں ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کے ساتھ شادی) کا ذکر کیا تھا، میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ کی اور ایڑیوں کے بل مڑا اور کہا: زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا ذکر کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ کرنے والی نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے مشورہ (استخارہ) کر لوں، اور وہ اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ کی طرف چلی گئیں اور (ادھر) قرآن نازل ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اجازت لیے ان کے پاس تشریف لے آئے۔ (سلیمان بن مغیرہ نے) کہا: (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے اپنے آپ سمیت سب لوگوں کو دیکھا کہ جب دن کا اجالا پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا۔ اس کے بعد (اکثر) لوگ نکل گئے، چند باقی رہ گئے وہ کھانے کے بعد (آپ کے) گھر میں ہی باتیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں سے) نکلے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ یکے بعد دیگرے اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جا کر انہیں سلام کہنے لگے۔ وہ (جواب دے کر) کہتیں: اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (نئی) اہلیہ کو کیسا پایا؟ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نہیں جانتا میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا۔ پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور (اس وقت) حجاب (کا حکم) نازل ہوا، کہا: اور لوگوں کو (اس مناسبت سے) جو نصیحت کی جانی تھی کر دی گئی۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، اس حال میں (آؤ) کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہو (کھانے کے وقت آؤ پہلے نہ آؤ)“ سے لے کر اس فرمان تک: ”اور اللہ کا حق سے شرم نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 1428
حدثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حدثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ " ، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ : عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ ، مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً .
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی ٰاللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کس بیوی کے نکاح پر اس قدر ولیمہ کیا ہو۔ جس قدر زینب کے نکاح پر ولیمہ کیا۔ کیونکہ آپ صلی ٰاللہ علیہ وسلم نے ایک بکری ذبح کی تھی۔
حدیث نمبر: 1428
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حدثنا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ، أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ " ، فقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ : بِمَا أَوْلَمَ ؟ قَالَ : أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا ، وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ .
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا اس سے بڑھ کر یا اس سے بہتر ولیمہ نہیں کیا جیسا ولیمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کیا۔ ثابت بنانی نے پوچھا: آپ نے کس چیز سے ولیمہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آپ نے انہیں روٹی اور گوشت کھلایا حتیٰ کہ انہوں نے (سیر ہو کر کھانا) چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 1428
حدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ : حدثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ ، قَالَ : فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ ، فَلَمَّا قَامَ ، قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ " ، زَادَ عَاصِمٌ ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا ، قَالَ : فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا ، قَالَ : فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا ، قَالَ : فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ ، إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53 .
یحییٰ بن حبیب حارثی، عاصم بن نضر تیمی اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، سب نے معتمر سے روایت کی۔ لفظ (یحییٰ) بن حبیب کے ہیں۔ کہا: ہم سے معتمر بن سلیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں ابومجلز نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ نے لوگوں کو (کھانے کی) دعوت دی، انہوں نے کھانا کھایا، پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ کہا: آپ نے ایسا انداز اختیار فرمایا گویا کہ کھڑے ہونے لگے ہوں اس پر بھی وہ نہ اٹھے، جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کھڑے ہو گئے، جب آپ کھڑے ہوئے تو لوگوں میں سے بھی جو کھڑے ہوئے، وہ ہو گئے۔ عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا: کہا: تین آدمی بیٹھے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم (حجرے میں) داخل ہونے کے لیے تشریف لے آئے، تو (اس وقت بھی) وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، پھر (کچھ دیر بعد) وہ اٹھے اور چلے گئے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ جا چکے ہیں۔ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے، میں بھی داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ کہا: اور (اس موقع پر) اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، ایسے (وقت میں) آؤ کہ (آ کر) اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو (کھانا رکھ دیا جائے تو آؤ)“ اس فرمان تک: ”بلاشبہ یہ بات اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔“
حدیث نمبر: 1428
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حدثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ، قَالَ أَنَسٌ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَ : وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَمَشَى فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ ، مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ ، فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ ، فَرَجَعَ فَرَجَعَتْ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا ، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں پردے کے احکام کو سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح اس حال میں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش کے دولہا بنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مدینہ میں شادی کی تھی، اور لوگوں کو دن چڑھے کھانے کے لیے بلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور عام لوگوں کے اٹھ جانے کے بعد کچھ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے۔ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور چل پڑے۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ کے دروازہ تک پہنچ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ گئے۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹ آیا لیکن وہ تو ابھی تک اپنی جگہ بیٹھے ہوئے تھے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ واپس چلے گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ تک پہنچ گئے اور وہاں سے لوٹ آئے، میں بھی لوٹ آیا۔ تو وہ جا چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیت نازل فرما دی تھی۔
حدیث نمبر: 1428
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ ، قَالَ : فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ ، فقَالَت : يَا أَنَسُ ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْ : بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ ، وَتَقُولُ : إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ ، وَتَقُولُ : إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فقَالَ : " ضَعْهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ ، فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ وَسَمَّى رِجَالًا " ، قَالَ : فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : عَدَدَ كَمْ كَانُوا ؟ قَالَ : زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ ، وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَنَسُ ، هَاتِ التَّوْرَ " ، قَالَ : فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلَأَتِ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ " ، قَالَ : فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، قَالَ : فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ ، فقَالَ لِي : " يَا أَنَسُ ، ارْفَعْ " ، قَالَ : فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ ؟ ، قَالَ : وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ ، فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ ، ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَرْخَى السِّتْرَ ، وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَيَّ ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ سورة الأحزاب آية 53 ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ الْجَعْدُ : قَالَ : أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ ، وَحُجِبْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اور اپنی اہلیہ کے پاس گئے، میری والدہ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے (کھجور، ستو اور گھی کا) مالیدہ (حَیس) تیار کر کے ایک تھال میں رکھا اور کہا، اے انس! اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرو، اور عرض کرو، یہ میری والدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا ہے۔ اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کرتی ہیں اور کہتی ہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ہماری طرف سے تھوڑا سا ہدیہ ہے، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میری ماں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتی ہیں اور عرض کرتی ہیں، یہ ہماری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے معمولی سا تحفہ ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکھ دو۔‘‘ پھر فرمایا: ”جاؤ میری طرف سے فلاں، فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ، اور (ان کے علاوہ) جو بھی تمہیں ملے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کے نام لیے، تو میں بلا لایا، جن کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیے اور جو اور مجھے ملے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد کہتے ہیں، میں نے پوچھا، ان کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا، تقریبا تین سو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے انس! تھال لے آؤ۔‘‘ لوگ اندر آ گئے، حتی کہ چبوترہ اور حجرہ بھر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس دس آدمی حلقہ بنا لیں اور ہر آدمی اپنے آ گے سے کھائے۔‘‘ سب نے سیر ہو کر کھایا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک گروہ نکلتا تو دوسرا گروہ داخل ہو جاتا، حتی کہ تمام لوگوں نے کھانا کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے انس! اٹھا لو۔‘‘ میں نے اٹھایا تو میں جان نہیں سکا جب میں نے رکھا تھا اس وقت کھانا زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اس وقت زیادہ تھا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں میں سے کچھ حضرات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں باتوں میں مشغول ہو کر بیٹھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ دیوار کی طرف منہ پھیر کر بیٹھی ہوئی تھیں، ان کا بیٹھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں کو سلام کرنے نکل گئے۔ پھر واپس آئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لوٹے دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گرانی کا سبب بنے ہیں تو وہ جلدی جلدی دروازے کی طرف لپکے، اور سب نکل گئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پردہ لٹکا کر اندر داخل ہو گئے، اور میں (پردہ سے باہر) حجرہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر بعد نکل کر میرے پاس آ گئے اور یہ آیت اتری، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر لوگوں کو سنائی: (اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں نہ داخل ہو مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے، نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا لیکن جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہو، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو، یہ باتیں نبی کے لیے باعث اذیت تھیں، لیکن وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے (شرم و حیا کی بنا پر) اور اللہ تعالیٰ حق کے اظہار میں شرم نہیں کرتا (کسی کا لحاظ نہیں کرتا) اور جب تم کو نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگو، یہ طریقہ تمہارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور ان کے دلوں کے لیے بھی اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ تم اس کی بیویوں سے کبھی اس کے بعد نکاح کرو یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین باتیں ہیں۔) (احزاب: 53)
حدیث نمبر: 1428
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ، أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ، فقَالَ أَنَسٌ : فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " ، فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ ، فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ ، وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ فَدَعَا فِيهِ ، وَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا ، وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53 ، قَالَ قَتَادَةُ : غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا ، وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ سورة الأحزاب آية 53 .
معمر نے ہمیں ابوعثمان (جعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک بڑے برتن میں حیس بھی آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تمہیں ملے اسے میرے پاس بلا لاؤ۔“ تو میں جس سے ملا اسے آپ کی طرف دعوت دی، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، کھانا کھاتے اور نکل جاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھا اور اس میں (برکت کی) دعا کی، اس کے بارے میں جو اللہ نے چاہا کہ آپ کہیں، آپ نے کہا۔ اور میں جس کو بھی ملا، ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا مگر اسے دعوت دی، لوگوں نے کھایا، حتیٰ کہ سیر ہو گئے اور نکل گئے، ان میں سے ایک گروہ (وہیں) رہ گیا، انہوں نے آپ کی موجودگی میں طویل گفتگو کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیا محسوس کرنے لگے کہ ان سے کچھ کہیں، چنانچہ آپ نکلے اور انہیں گھر میں ہی چھوڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیات) نازل فرمائیں: ”اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے (اندر آنے کی) اجازت دی جائے، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں۔“۔۔ قتادہ نے کہا: کھانے کے وقت کا انتظار کرتے ہوئے نہیں۔۔ ”لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب تم اندر جاؤ۔“ حتیٰ کہ آپ نے یہاں تک تلاوت کی: ”یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے اور زیادہ پاکیزگی (کا طریقہ) ہے۔“