کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مہر کا بیان اور تعلیم قرآن اور مہر ٹھہرانے میں لوہے کا چھلا وغیرہ کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 1425
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حدثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . ح وَحدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ ، فَزَوِّجْنِيهَا ، فقَالَ : " فَهَلْ عَنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ " ، فقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فقَالَ : " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ ، فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا " ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فقَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ " ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ، قَالَ سَهْلٌ : مَا لَهُ رِدَاءٌ ، فَلَهَا نِصْفُهُ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ " ، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا ، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قَالَ : " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " ، قَالَ : مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا ، فقَالَ : " تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَقَدْ مُلِّكْتكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " ، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ ، وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ ،
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری اور عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنی ذات آپ کو ہبہ کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی، آپ اپنی نظر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے تک لے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! اگر آپ کو اس (کے ساتھ شادی) کی ضرورت نہیں تو اس کی شادی میرے ساتھ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس (حق مہر میں دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! (کچھ) نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، دیکھو تمہیں کچھ ملتا ہے؟“ وہ گیا پھر واپس آیا اور عرض کی: نہیں، اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں ملا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو! چاہے لوہے کی انگوٹھی ہو۔“ وہ گیا پھر واپس آیا، اور عرض کی، نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے، البتہ میری یہ تہبند ہے۔ سہل نے کہا: اس کے پاس (کندھے کی) چادر بھی نہیں تھی۔ اس میں سے آدھی (بطور مہر) اس کے لیے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے تہبند کا کیا کرے گی، اگر تم اسے پہنو گے تو اس (کے جسم) پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا اور اگر وہ پہنے گی تو تم پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا۔“ اس پر وہ آدمی بیٹھ گیا۔ اسے بیٹھے ہوئے لمبا وقت ہو گیا تو وہ کھڑا ہو گیا (اور چل دیا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھ لیا۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بلا لیا گیا، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس قرآن کتنا ہے؟ (تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟)“ اس نے عرض کی: میرے پاس فلاں سورت اور فلاں سورت ہے۔ اس نے وہ سورتیں شمار کیں۔ تو آپ نے پوچھا: ”تم انہیں زبانی پڑھتے ہو؟“ اس نے عرض کی، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، تمہیں جتنا قرآن یاد ہے اس کے عوض (نکاح کے لیے) تمہیں اس کا مالک (خاوند) بنا دیا گیا ہے۔“ یہ ابن ابی حازم کی حدیث ہے، یعقوب کی حدیث بھی الفاظ میں اسی کے قریب ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1425
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1425
وحدثناه خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَائِدَةَ ، قَالَ : انْطَلِقْ ، فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا ، فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ .
مصنف یہی روایت چند اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، جو ایک دوسرے سے کم و بیش بیان کرتے ہیں، زائدہ کی روایت میں یہ ہے، ”جاؤ، میں نے اس کی تیرے ساتھ شادی کر دی ہے، اسے قرآن مجید کی تعلیم دو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1425
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1426
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَت : " كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا " ، قَالَت : أَتَدْرِي مَا النَّشُّ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَت : نِصْفُ أُوقِيَّةٍ ، فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ .
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی بیویوں کو) کتنا مہر دیا تھا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر، بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، اور پوچھا، تمہیں نش کے بارے میں علم ہے؟ میں نے عرض کیا، نہیں، انہوں نے بتایا، آدھا اوقیہ کو کہتے ہیں، اس طرح پانچ سو درہم ہو گئے، اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1426
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1427
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حدثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ ، فقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے (کپڑوں) پر زرد رنگ کے آثار دیکھے، تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا، کے عوض شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے، ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی ہو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1427
وَحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حدثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سونے کی گٹھلی کے عوض نکاح کیا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ولیمہ کرو، خواہ بکری ہی ہو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1427
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا وَكِيعٌ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، وَأَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ لَهُ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
وکیع نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ اور حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے کرو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1427
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا أَبُو دَاوُدَ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حدثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حدثنا شَبَابَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً .
امام صاحب یہی روایت مختلف اساتذہ سے نقل کرتے ہیں، لیکن ابن وہب کی روایت میں ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، میں نے ایک عورت سے شادی کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1427
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَا : أَخْبَرَنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ ، فَقُلْتُ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، فقَالَ : " كَمْ أَصْدَقْتَهَا ؟ " ، فَقُلْتُ : نَوَاةً ، وَفِي حَدِيثِ إِسْحَاقَ : مِنْ ذَهَبٍ .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس حال میں دیکھا کہ مجھ پر شادی کی مسرت و شادمانی کے آثار تھے، میں نے عرض کیا، میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”تم نے کتنا مہر مقرر کیا ہے؟‘‘ تو میں نے کہا، ایک گٹھلی، اسحاق کی روایت میں ہے، سونے کی گٹھلی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1427
وحدثنا وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا أَبُو دَاوُدَ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ شُعْبَةُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ " ،
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1427
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا وَهْبٌ ، أَخْبَرَنا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : مِنْ ذَهَبٍ .
وہب نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے ایک نے کہا: سونے کی (ایک گٹھلی)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»