کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: اس بات کا بیان کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ اور اس پر خوشبو کے حرام ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا ، مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ " .
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ احرام باندھنے والا کیسے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ، نہ شلوار، نہ کوٹ (ٹوپی جڑا لبادہ) اور نہ موزے پہنو، سوائے اس کے جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے پہن لے، اور انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے۔ اور ایسا کپڑا نہ پہنو جسے کچھ بھی زعفران یا ورس (زرد چولہ) لگا ہو۔“
حدیث نمبر: 1177
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزهير بن حرب كلهم ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ ؟ ، قَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا السَّرَاوِيلَ ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
حضرت سالم نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، احرام باندھنے والا کیسا لباس پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ قمیص پہنے، نہ عمامہ، نہ ٹوپی جڑا لبادہ، نہ شلوار، نہ ایسے کپڑے پہنے جسے ورس یا زعفران لگا ہو، اور نہ موزے پہنے، مگر جسے جوتے نہ ملیں تو (وہ موزے پہن لے اور) انہیں (اوپر سے) اتنا کاٹے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔“
حدیث نمبر: 1177
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ " ، وَقَالَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے والے کو زعفران یا ورس میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا، نیز فرمایا: ”جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے۔“
حدیث نمبر: 1178
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " يَعْنِي الْمُحْرِمَ ،
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”شلوار اس کے لیے (جائز) ہے جسے تہبند نہ ملے، اور موزے اس کے لیے جسے جوتے میسر نہ ہو،“ یعنی احرام باندھنے والے کے لیے۔
حدیث نمبر: 1178
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ،
شعبہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی کہ انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا، پھر یہی حدیث سنائی۔
حدیث نمبر: 1178
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ .
امام صاحب اپنے پانچ اور اساتذہ سے عمرو بن دینار ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، شعبہ کے سوا کسی نے بھی عرفات کے خطبہ کا تذکرہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1179
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے، اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے۔“
حدیث نمبر: 1180
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ ، أَوَ قَالَ : أَثَرُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي ؟ ، قَالَ : وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَكَانَ يَعْلَى ، يَقُولُ : وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، قَالَ : فَقَالَ : أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، قَالَ : فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ، لَهُ غَطِيطٌ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : كَغَطِيطِ الْبَكْرِ ، قَالَ : فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ ؟ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ ، أَوَ قَالَ : أَثَرَ الْخَلُوقِ ، وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّكَ " .
ہمام نے کہا: ہمیں عطاء بن ابی رباح نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص حاضر ہوا۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ (کے مقام) پر تھے، اس (کے بدن) پر جبہ تھا، اس پر زعفران ملی خوشبو (لگی ہوئی) تھی۔ یا کہا: زردی کا نشان تھا۔ اس نے کہا: آپ مجھے میرے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: (اتنے میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑا تان دیا گیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (اس عالم میں) دیکھوں جب آپ پر وحی اتر رہی ہو۔ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا:) (عمر رضی اللہ عنہ) کہنے لگے: کیا تمہیں پسند ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہو تو تم انہیں دیکھو؟ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑے کا ایک کنارا اٹھایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس لینے کی بھاری آواز آ رہی تھی۔ صفوان نے کہا: میرا گمان ہے انہوں نے کہا:۔۔۔ جس طرح جوان اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے۔ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دور ہوئی (تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرے کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ (پھر اس نے فرمایا:) ”تم اپنے (کپڑوں) سے زردی (زعفران) کا نشان۔۔۔ یا فرمایا: خوشبو کا اثر۔۔۔ دھو ڈالو، اپنا جبہ اتار دو اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“
حدیث نمبر: 1180
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ ، وَأَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ يَعْنِي : جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذَا وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ ؟ ، قَالَ : أَنْزِعُ عَنِّي هَذِهِ الثِّيَابَ ، وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ ، فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " .
عمرو بن دینار نے عطاء سے، انہوں نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، میں (یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا، اس (کے بدن) پر ٹکڑیوں والا (لباس)، یعنی جبہ تھا، وہ زعفران ملی خوشبو سے لت پت تھا۔ اس نے کہا: میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میرے جسم پر یہ لباس ہے اور میں نے خوشبو بھی لگائی ہے۔ (کیا یہ درست ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنے حج میں کیا کرتے ہو؟“ اس نے کہا: میں یہ اپنے کپڑے اتار دیتا ہوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جو تم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو۔“
حدیث نمبر: 1180
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَيْتَنِي أَرَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ ، وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ ، مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ، ثُمَّ سَكَتَ فَجَاءَهُ الْوَحْيُ ، فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ ، فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ ، يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا " ، فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيءَ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ " .
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے عطا کو بتایا، کہ یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے کہتے تھے کہ کاش میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے کا سایہ کیا گیا تھا اور آپﷺ کے کچھ ساتھی، آپﷺ کے ساتھ تھے، جن میں عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، اچانک آپﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، جو جبہ پہنے ہوئے تھا اور خوشبو سے لت پت تھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپﷺ کا اس انسان کے بارے میں کیا ارشاد ہے، جس نے عمرہ کا احرام ایک جبہ میں، خوشبو سے معطر ہو کر باندھا؟ کچھ وقت آپﷺ نے اسے دیکھا، پھر خاموش ہو گئے اور آپﷺ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ہاتھ سے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اشارہ سے کہا: آؤ تو یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ آ گئے اور اپنا سر (کپڑے کے) اندر داخل کر دیا، ناگہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ تھا، کچھ وقت تک آپﷺ خراٹے لیتے رہے پھر یہ کیفیت دور ہو گئی تو آپﷺ نے فرمایا: ”کہاں ہے وہ جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے بارے میں دریافت کیا تھا؟‘‘ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خوشبو جو تیرے جسم پر ہے، اس کو تین دفعہ دھو ڈالو اور جبہ کو اتار دو، پھر اپنے عمرہ میں وہی کام کرو جو اپنے حج میں کرتے ہو۔‘‘
حدیث نمبر: 1180
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ ، قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى ، فَقَالَ : " انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " .
قیس، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں، وہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے، وہ اپنے والد (یعلیٰ رضی اللہ عنہ) سے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، وہ عمرے کا احرام باندھ کر تلبیہ کہہ چکا تھا، اس نے اپنا سر اور اپنی داڑھی کو زرد رنگ سے رنگا ہوا تھا، اور اس (کے جسم) پر جبہ تھا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میں اس حالت میں ہوں جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو، اپنے آپ سے زرد رنگ کو دھو ڈالو اور جو تم نے اپنے حج میں کرنا تھا وہی عمرے میں کرو۔“
حدیث نمبر: 1180
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ : أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ ، فَكَيْفَ أَفْعَلُ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ ، وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يُظِلُّهُ ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ ، فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ ؟ " ، فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : " انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ ، وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلًا فِي حَجِّكَ " .
صفوان بن یعلیٰ بن امیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپﷺ کے پاس ایک آدمی جبہ پہنے ہوئے آیا، جس پر خلوق کا اثر تھا، اس نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے تو میں کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خاموش ہو گئے اور اسے کوئی جواب نہ دیا اور جب آپﷺ پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کو اوٹ کرتے، آپﷺ پر سایہ کرتے تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا، میں چاہتا ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ سلم پر وحی کا نزول ہو تو میں آپ کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کروں تو جب آپﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کپڑے سے آپﷺ کو ڈھانپ دیا، میں آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کر دیا اور میں نے آپﷺ کو دیکھا، جب آپﷺ سے یہ کیفیت زائل ہو گئی تو آپﷺ نے فرمایا: ”ابھی عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟‘‘ آپﷺ کے پاس وہ آدمی آیا، اس پر آپﷺ نے فرمایا: ”اپنا جبہ اپنے سے اتار دو اور تجھ پر جو خلوق کا اثر (نشان) ہے، اس کو دھو ڈالو اور اپنے عمرہ میں وہی کام کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔‘‘