کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: قضاء رمضان کی تاخیر کا جواز جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آ جائے، یہ اس کے لیے ہے جس نے کسی عذر کی بناء پر روزہ چھوڑا ہو، جیسے: بیماری، سفر، حیض وغیرہ۔
حدیث نمبر: 1146
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلَّا فِي شَعْبَانَ الشُّغْلُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میرے ذمہ رمضان کے روزے ہوتے تو میں ان کی شعبان کے سوا کسی ماہ میں قضائی نہ دے سکتی تھی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی مصروفیت ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 1146
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،
مصنف ایک اور استاد سے یحییٰ بن سعید ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں اس میں ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کی بنا پر ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 1146
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِمَكَانِهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَحْيَى يَقُولُهُ ،
مصنف ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اس میں یہ ہے کہ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی بنا پر ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر وہ روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں۔
حدیث نمبر: 1146
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ يَحْيَى : بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْحَدِيثِ " الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد بن مثنیٰ، عبدالوہاب، عمرو ناقد، سفیان، یحییٰ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 1146
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ " .
محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز بن محمد دراوردی، یزید بن عبداللہ بن ہاد، محمد بن ابراہیم، ابی سلمہ بن عبدالرحمان، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی روزہ چھوڑتی تھی تو وہ قدرت نہ رکھتی کہ ان کی قضا کر لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے، یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔