مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: سفر میں روزہ چھوڑنے والے کے اجر کا بیان جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگا رہے۔
حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَكْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْكِسَاءِ ، وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ ، قَالَ : فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ ، فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةِ وَسَقَوْا الرِّكَابَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض روزے سے نہیں تھے تو ایک سخت گرمی کے دن ہم ایک منزل پر اترے اور ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنے والا شخص وہ تھا جس کے پاس کمبل تھا اور ہم میں سے بعض وہ تھے جو سورج سے اپنے ہاتھ سے بچ رہے تھے، روزے رکھنے والے تو گرپڑے اور روزہ نہ رکھنے والے اٹھے۔ انھوں نے سب کے لیے خیمے لگائے اور سب کی سواریوں کو پانی پلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تو اجر روزہ نہ رکھنے والے لے گئے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1119
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1119
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ ، فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا ، وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ ، قَالَ : فَقَالَ فِي ذَلِكَ : " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفرمیں تھے تو بعض نے روزہ رکھا اور بعض نےنہ رکھا تو بے روزہ خدمت کمر بستہ ہو گئےیا انھوں نے کمر بند باندھ لیے اور کام کرنے لگے اور روزے دار کام نہ کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تو اجر بےروز لے گئے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1119
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1120
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَزَعَةُ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ ، قُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ ، سَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ " ، فَكَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ ، فَأَفْطِرُوا " ، وَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ .
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قزعہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا تو لوگ ان سے علیحدہ ہو گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے وہ نہیں پوچھوں گا جس کے بارے میں یہ پوچھ رہے ہیں (راوی کہتے ہیں) کہ میں نے سفر کے روزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ تک سفر کیا ہے اور ہم روزہ کی حالت میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک جگہ اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دشمن کے قریب ہو گئے ہو اور اب افطار کرنا (روزہ نہ رکھنا) تمہارے لیے قوت و طاقت کا باعث ہو گا۔“ تو روزہ کی رخصت تھی پھر ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا پھر جب ہم دوسری منزل تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کے وقت اپنے دشمن کے پاس گئے روزہ نہ رکھنے سے تمہارے اندر طاقت زیادہ ہو گی اس لیے روزہ نہ رکھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ضروری تھا اس لیے ہم نے روزہ نہیں رکھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھتے رہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1120
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔