مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: ہر شہر کے لئے اس کی اپنی رؤیت معتبر ہے اور کسی شہر میں چاند دیکھنے سے دور والوں کے لیے رؤیت ثابت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا ، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ؟ " ، فَقُلْتُ : " رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ " ، فَقَالَ : " أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ " ، فَقُلْتُ : " نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ " ، فَقَالَ : " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ " ، فَقُلْتُ : " أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ " ، فَقَالَ : " لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي .
یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحییٰ، اسماعیل، ابن جعفر، محمد، ابن حرملہ، حضرت کریب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا کا کام پورا کیا۔ اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہو گیا۔ اور میں نے شام میں ہی جمعے کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینے کے آخر میں مدینے آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے۔ پھر فرمایا: تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور انہوں نے روزہ رکھا۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ ”ہم اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے الفاظ تھے یا ”آپ اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1087
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔