حدیث نمبر: 878
878 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، ثُمَّ يَنْظُرُ بِمَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ» ، قَالَ سُفْيَانُ: " وَكَانَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، يَقُولُ فِيهِ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخِي بَنِي فِهْرٍ يَلْحَنُ فِيهِ، فَقُلْتُ أَنَا: أَخَا بَنِي فِهْرٍ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈالے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ اس انگلی پر کتنا پانی آیا ہے؟“ سفیان کہتے ہیں: ابن ابوخالد یہ روایت نقل کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ میں نے یہ روایت سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے سنی ہے جن کا تعلق بنو فہر سے ہے، تو وہ یہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے لفظی غلطی کر جاتے تھے۔